خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 330
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 330 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء کرتی ہوئی نا کام اور خائب و خاسر لوٹ جاتی ہیں۔مگر اس بطل جلیل ، مرد میدان عظیم خدا کے عظیم بندے محمد کے عزم کولرزاں وتر ساں نہ کرسکیں۔وہ سر بفلک پہاڑوں کی طرح غیر متزلزل تھا۔اس کے پائے ثبات لغزش کے نام سے نا آشنا تھے۔خوف وہراس اس کے قدموں کی ٹھوکر سے پارہ پارہ ہو جاتے تھے۔وہ یکا و تنہا مہیب خطرات میں کھڑا ہوا مسکرانا جانتا تھا۔عکرمہ کا جوش انتقام اس کا کچھ بگاڑ نہ سکا۔ابوسفیان کا غیظ و غضب جھاگ بن کر بکھر گیا۔خالد کی ساری کوششیں بے کار گئیں، اس کی ساری استعداد میں مفلوج ہوگئیں۔وہ اس حال میں میدان احد سے لوٹا کہ جنگ کے بنیادی مقاصد میں سے کچھ بھی حاصل نہ ہو سکا تھا۔موت کی ان ہولناک یورشوں سے محمد مصطفی کا زندہ نکل آنا گویا کفار کی سب امنگوں اور آرزوؤں کی موت تھی۔لشکر اسلام کا پھر اس طرح دب کر ابھر آنا اور بکھر کر مجمع ہو جانا کہ میدان جنگ پر ڈوبتے دن تک وہی قابض رہے جب کہ بظاہر جیتا ہوا دشمن کوچ کر چکا تھا۔کبھی کسی نے ایسی فتح وشکست پہلے نہ دیکھی تھی۔پھر دیکھو کفار کی یہ کیسی فتح تھی کہ مسلمانوں کی مغلوب فوج کفار کی جیتی ہوئی فوج کا تعاقب کرتی ہوئی کوسوں دور نکل جاتی ہے۔کئی منزلیں طے کرتی ہوئی اس کا پیچھا کرتی ہے لیکن اس جیتی ہوئی فوج کو یہ حوصلہ نہیں ہوتا کہ مڑکر اس زخمی شکار کا قضیہ چکا سکے۔جسے وہ اپنی دانست میں ادھ موا کر کے پیچھے چھوڑ آئی تھی۔میں سمجھتا ہوں کہ جنگ احد کے دوسرے ہی روز آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے زخمی لشکر کو دشمن کے تعاقب کا حکم دینا ایک ایسا حیرت انگیز واقعہ ہے کہ تاریخ عالم کی ورق گردانی کر کے دیکھ لو تمہیں اس کی کوئی مثال نظر نہیں آئے گی۔جنگ و جدال کی دنیا میں حکمت و فراست اور جرات کا یہ ایک ایسا شاہکا رہے جو تاریخ کے افق پر سورج کی طرح چمک رہا ہے۔تنہا ، روشن اور بے نظیر۔غزوہ احد کے حالات کا کسی قدر تفصیلی جائزہ آئندہ صفحات پر پیش کیا جارہا ہے۔قارئین ! جب ان واقعات سے گزر کر شام احد تک پہنچیں گے تو اس وقت اس امر کا جائزہ لینے کا صحیح موقع پیش آئے گا کہ آنحضور کا یہ فیصلہ کس قدر حیرت انگیز اور عقل کے لئے لا نخیل تھا کہ آپ لشکر اسلام کو یہ حکم صادر فرما دیتے ہیں کہ دشمن کا دور تک تعاقب کیا جائے گا۔لیکن کسی نئے سپاہی کو ساتھ شامل ہونے کی اجازت نہیں دیتے فیصلہ یہ ہے کہ صرف وہی مجاہدین اس تعاقب میں حصہ لیں گے جو غزوہ احد میں شرکت کر چکے تھے۔آنحضور کا یہ اقدام اس طرح باریک نظر سے تجزیہ کا محتاج ہے جس طرح بھنورا