خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 332 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 332

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 332 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء ۲۔تازہ دم نو جوانوں اور نئے مجاہدین کو ساتھ چلنے کی اجازت نہ دے کر آنحضور نے قطعی طور پر یہ ثابت کر دیا کہ آپ ظاہری اسباب پر بھروسہ نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے اس دعوی اور یقین میں چے تھے کہ آپ کا اصل تو کل اپنے رب پر ہی ہے اور وہ یقینا آپ کی نصرت پر قادر ہے۔۔اس فیصلہ کے ذریعہ آپ نے اپنے ان صحابہ کی دلداری فرمائی جن کے پاؤں میدان احد میں اُکھڑ گئے تھے اور ان پر اس مکمل اعتماد کا اظہار فرمایا کہ وہ درحقیقت پیٹھ دکھانے والے نہیں تھے بلکہ اچانک ناگزیر حالات سے مجبور ہو گئے تھے۔جہاں تک میں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ انسانی جنگوں کی تاریخ میں ایک بھی مثال ایسی نظر نہیں آتی کہ کسی جرنیل نے اپنی فوج پر اتنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہو جبکہ وہی فوج صرف چند گھنٹے پہلے اُسے تنہا چھوڑ کر میدان سے ایسا فرار اختیار کر چکی ہو کہ چند جان شاروں کے سوا اس کے پاس باقی کچھ نہ رہا ہو۔بلاشبہ ہر ایسے موقع پر ہمیں بالکل بر عکس معاملہ نظر آتا ہے اور یہی دیکھتے ہیں کہ بھاگے ہوئے سپاہیوں پر نہ صرف یہ کہ اعتماد نہیں کیا جاتا بلکہ چن چن کر ان کو فوج سے الگ کر کے سزائیں دی جاتی ہیں اور بھگوڑوں کی صف میں کھڑا کر کے ذلیل و خوار کیا جاتا ہے اور ان کی جگہ تازہ دم نئے سپاہیوں کو پیش آمدہ معرکوں میں شامل کیا جاتا ہے۔-۴۔یہ امر کہ آنحضور کا یہ سوفی صدی اعتماد درست تھا اور کوئی جذباتی فیصلہ نہ تھا اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ بلا استثناء احد کے وہ سب مجاہدین پورے عزم اور جوش کے ساتھ اس انتہائی خطر ناک مہم میں حضور کے ساتھ شامل ہوئے جن میں چلنے پھرنے کی سکت موجود نہ تھی اور کسی ایک نے بھی یہ کہ کرمنہ نہ موڑا کہ یہ ہم خود کشی کے مترادف ہے اور یہ اعتراض نہ کیا کہ ایک دفعہ بمشکل جان بچانے کے بعد پھر اس قومی اور جابر دشمن کے چنگل میں از خود پھنس جانا کہیں کی دانائی نہیں۔پیچھے ہٹنے کا تو کیا سوال صحابہ کے جوش کا تو یہ عالم تھا کہ دوزخمی بھائیوں نے آپس میں یہ باتیں کیں کہ اگر چہ ہم سخت زخمی ہیں اور چلنا تک دُوبھر ہے اور ہمیں اجازت بھی ہے کہ ہم پیچھے رہ جائیں لیکن چونکہ حضرت محمد مصطفی " کا ارشاد کہ وہی مجاہدین دشمن کے تعاقب میں نکلیں جو غزوہ احد میں شامل تھے اس لئے پیچھے بھی نہیں رہا جاتا آخر باہم مشورہ کے بعد انہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ خواہ گرتے پڑتے ٹھوکریں کھاتے بھی جانا پڑے آنحضور