خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 329
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 329 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء ہو جاتے۔حتی کہ آنحضور بعض اوقات بالکل اکیلے رہ جاتے یا صرف دو تین فدائی آپ کے ساتھ ہوتے۔آنحضور کے چوگرد اس وقت جنگ نے ایسی ہولناک شدت اختیار کر لی تھی کہ کسی مددگار کا آپ کے قریب پہنچنا یقینی موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔احد کی سرزمین سے قریش حملہ آوروں کی للکار اور بھری ہوئی قریش کی عورتوں کے رزمیہ اشعار سے ایک دہشت ناک شور بلند ہورہا تھا۔یہ وہ عورتیں تھیں جن کے سینے جنگ بدر کے مقتولوں کی یاد میں جوش انتقام سے ہنڈیا کی طرح اہل رہے تھے۔وہ یہ عزم لے کر نکلی تھیں کہ ان کا بس چلے تو غازیان بدر کے کلیجے نکال کر چہا جائیں۔خالد بن ولید کی قیادت میں دوسو جنگجو سواروں کا دستہ مسلمانوں کی بکھری ہوئی پیادہ فوج کوگھوڑوں کے سموں تلے روندنے اور نیزوں میں پرونے میں مصروف تھا۔ان کے بپھرے ہوئے جنگی گھوڑوں کے ہنہنانے اور زمین پر ان کی ٹاپوں کی آواز سے ایک وحشت ناک آواز بلند ہورہی تھی۔ان سب مصیبتوں پر سوا یہ کہ کسی دشمن نے اچانک بآواز بلند یہ نعرہ لگایا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم مقتل کر دئیے گئے۔اس شدید مصیبت کے وقت میں یہ اعلان مسلمانوں کے دلوں پر بجلی کی طرح گرا اور مجاہدین کا وہ حصہ جو پہلے ہی خوفزدہ اور سراسیما ہو چکا تھا یہ سن کر میدان سے فرار اختیار کر گیا۔یہاں تک اس پر دہشت اور سراسیمگی کا عالم طاری تھا کہ قرآن کریم کے مطابق آنحضوران بھاگنے والوں کو پیچھے سے بلاتے رہے لیکن انہوں نے مڑ کر نہ دیکھا۔عزم و حوصلہ اعلیٰ اخلاق ، بلند نظریات اور عظیم قائدانہ صلاحیتوں کی آزمائش کا یہی وقت ہوا کرتا ہے جبکہ مصائب کی یورش بڑے بڑے صاحب عزم انسانوں کے حوصلے پست کر دیتی ہے اور مصائب کی چکی ان کی ہمتیں نہیں ڈالتی ہے۔لیکن آنکھ تعجب سے اس بات کا نظارہ کرتی ہے اور عقل حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتی ہے جب یہ دیکھتی ہے کہ سرداران ملکہ کو ان تمام جنگی فوقیتوں کے باوجود اور اپنی تمام بے پناہ استعدادوں کے ہوتے ہوئے بھی ایک محمد مصطفی پر فتح نصیب نہ ہوئی۔ہاں وہ ایک ہی تو تھا میرا محبوب آقا ، لا فانی رسول جو ابدی زندگی کا حامل تھا۔وہ ایک ہی تو تھا لا ثانی و تنہا احد کے میدان کا وہ بے مثل دلیر، مرد کامل، بار ہارسالت کا جھنڈا بلند کئے ہوئے اس حال میں اکیلا پایا گیا کہ غل مچاتی ہوئی مسرتوں نے ہر طرف سے اسے گھیرے میں لے رکھا تھا۔لیکن وہ آسیب بیابانی کی طرح واویلا