خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 328 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 328

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 328 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء بشریت سے بالا نظر آتی ہیں لیکن درحقیقت وہ بشریت ہی کا معراج کامل تھا جونور میں مدغم ہو کر نو مجسم بن چکی تھی۔لیکن فی الوقت ذکر آپ کی استعدادوں کا چل رہا ہے جو بحیثیت سپہ سالا راحد کے روز آپ کے وجود باجود میں ایک امتیازی شان کے ساتھ جلوہ گر ہوئیں۔کسی سالارجیش کی استعدادوں کے امتحان کا اصل وقت تو اس وقت آتا ہے جب جنگ کا پلڑا پورے بوجھ کے ساتھ دوسری طرف جھک جائے اور اپنے پلڑے میں کچھ بھی وزن نہ رہے۔جب تمام حالات کی نظریں بدل جائیں اور تمام موجبات مخالفانہ ہو جائیں۔ایسے وقتوں میں عموماً سپہ سالار کی عظمت اسی امر میں بیان کی جاتی ہے کہ وہ سپاہیوں کی بھگدڑ سے بے نیاز تنہا میدان جنگ میں کود پڑے اور گوجسم پارہ پارہ ہو گیا ہولیکن اپنے عزم آپنی پر خراش تک نہ آنے دے۔اسی قسم کے واقعات ہمیں انسانی جنگوں کی تاریخ میں بار ہا ملتے ہیں لیکن ایسا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے کہ کوئی جرنیل اپنی جان کی بازی اس عزم اور ہمت اور حکمت اور تدبر کے ساتھ لگا دے کہ میدان جنگ کی تقدیر بدل کر رکھ دے۔اس روز احد کے میدان میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیادت میں یہی معجزہ رونما ہوا اور بڑی منفردشان کے ساتھ رونما ہوا۔جیسے مخالفانہ حالات اچانک احد کے روز آنحضور کو پیش آئے ایسے حالات میں جنگ کی تقدیر کو ایک بار پھر پلٹ دینا کوئی معمولی بات نہ تھی۔ذرا دیکھو تو سہی کہ اس وقت سرداران قریش کو مسلمانوں کے مقابل پر کیسی کیسی فوجی برتری حاصل تھی۔وہ ایک ایسا موقع تھا کہ بڑے بڑے ماہرین حرب کی قیادت میں دوسو گھوڑ سوار، زرہ پوش، نیزه بردار جوان اور تین ہزار شمشیر بکف آزمودہ کا رسپاہی ایک ایسی فوج کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور نیست و نابود کرنے پر تلے ہوئے تھے جو تعداد میں ان سے بہت کم تھی، جو ہتھیاروں اور ساز وسامان میں ان سے بہت کم تھی۔وہ کم تعداد اور کم سامان ہی نہیں تھی بلکہ اس کی جمعیت بھی ٹوٹ کرایسی پراگندہ اور پریشان ہو چکی تھی جیسے چینی کا پیالہ ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔وہ تو ایسے بکھرے اور پراگندہ ہو چکے تھے کہ بیشتر کو یہ بھی خبر نہ تھی کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کہاں اور کس حال میں ہیں؟ دشمن کے اس شدید جوابی حملہ کے وقت حضور کے گرد جو چند صحابہ رہ گئے تھے وہ بھی حملہ آور دشمنوں سے نبرد آزما بسا اوقات دور دور تک نکل جاتے یا ان کے نرغے میں پھنس کر وہیں شہید