خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 325 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 325

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 325 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء عقب پوری طرح محفوظ تھا یعنی پیچھے سے حملہ کا کوئی خطرہ باقی نہ رہا تھا۔دوسری طرف کفار پر اپنی تدبیر کی ناکامی سے مایوسی سی چھا گئی اور صحابہ کے شدید حملے نے بہت جلد ان کے قدم اکھیڑ دیئے۔افسوس کہ اس وقت درہ کے محافظین میں سے اکثر نے آنحضور کی واضح ہدایت فراموش کر دی اور صحابہ کو فتح مند ہوتے اور دشمن کو شکست کھا کر بھاگتے ہوئے دیکھ کر ان پچاس تیراندازوں میں سے چالیس درہ چھوڑ کر پیچھے اتر آئے اور ان کی یہ غلطی مسلمانوں کی فتح مبین کو ایسے پر خطر حالات میں تبدیل کر گئی کہ اگر آنحضور کی قیادت کی سعادت انہیں نصیب نہ ہوتی تو یقیناً ان کی یہ عارضی فتح ایک انتہائی ہولناک شکست میں تبدیل ہو جاتی اور وہ سب کے سب اس روز صفحہ ہستی سے نابود کر دئیے جاتے۔ان حالات پر نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ جہاں مسلمانوں کی ابتدائی فتح کلیه آنحضور کے حسن تدبر اور آپ کی بابرکت قیادت کی طرف انگلی اٹھارہی ہے وہاں یہ احتمال شکست بھی آنحضور ہی کی عظمت کے گیت گا رہا ہے اور ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ بسا اوقات فتح وشکست کا انحصار لڑنے والی سپاہ کے جوش اور ولولے اور مادی قوت سے کہیں زیادہ ایک عظیم سپہ سالار کی حکیمانہ قیادت اور اس کی غلامانہ اطاعت پر منحصر ہوا کرتا ہے۔خصوصاً آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت تو مسلمان کی فلاح کے لئے ایسی ضروری ہے جیسے سانس زندگی کے لئے۔دیکھو! کس طرح آپ کی اطاعت نے جو شاندار فتح عطا کی تھی چند لوگوں کی چندلحوں کی نافرمانی نے اسے کیسی خوفناک شکست میں تبدیل کر دینے کے سامان پیدا کر دیئے۔لیکن حقیقی زندگی کا یہ حیرت انگیز ڈرامہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔ایک اور منظر سے بھی پردہ اٹھنا ابھی باقی ہے جس میں ہم بظاہر انہونی بات کو ہوتا ہوا دیکھیں گے کہ صرف اور صرف ہمارے آقا آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دم قدم کی برکت سے حالات نے ایک دفعہ پھر انقلابی پلٹا کھایا اور یہ یقینی شکست ایک بین فتح میں تبدیل ہو گئی۔آپ بے شک تاریخ عالم کے سب اوراق کی ورق گردانی کر کے دیکھ لیجئے آپ کو ایک بھی مثال ایسی نظر نہیں آئے گی کہ کسی کثیر التعداد جماعت کو کسی قليل التعداد جماعت پر کامل غلبہ کے اتنے یقینی حالات میسر آگئے ہوں لیکن پھر بھی وہ فتح سے محروم کر دی گئی ہو اور اس حال میں واپس لوٹے کہ گویا خائب و خاسر اور نامراد ہے اور انتقام کی آگ اسی طرح اس کے سینہ میں بھڑک رہی ہو جیسے پہلے تھی۔