خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 324
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 324 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء شروع ہی سے خالد کی سکیم یہی تھی کہ مسلمانوں کے عقب سے ان پر حملہ کیا جائے اور اس دوطرفہ حملے سے انہیں کلیہ نابود کر دیا جائے۔لیکن آنحضور کے انتخاب میدان اور تیراندازوں کی انتہائی برحل تقرری کی بناء پر اس کی سب تدبیریں خاک میں مل گئیں۔سوم : ایک احتمال یہ ہو سکتا تھا کہ کفار مکہ صورتحال سے فائدہ اٹھا کر مدینہ پر حملہ آور ہو جاتے مگر آنحضور جانتے تھے کہ اول تو مدینہ کی تنگ گلیوں میں اس طرح داخل ہونا کوئی آسان کام نہیں تھا جب کہ چھتوں پر سے مسلمان عورتیں اور بچے پتھروں کی بارش برسا رہے ہوں۔دوسرے ایسی صورت میں کفار مکہ خود دونوں طرف سے مصیبت سے گھر جاتے۔ایک طرف سے مدینہ ان پر پتھراؤ کر رہا ہوتا تو دوسری طرف سے مسلمان اس کے عقب سے حملہ آور ہوتے۔آنحضور کو مسلمانوں کی حمیت اور غیرت پر بھی کامل اعتماد تھا اور جانتے تھے کہ اگر دشمن نے مدینہ کی طرف بدارا دے سے نظر ڈالی تو صحابہ پہلے سے بڑھ کر جوش کے ساتھ ایسی بپھری ہوئی شیرنی کی طرح اس پر حملہ کریں گے جس کے بچوں کو خطرہ درپیش ہو۔پس جہاں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس احتمال سے پوری طرح باخبر تھے کہ دشمن مدینہ کو کھلا دیکھ کر اس پر حملہ کر سکتا ہے وہاں ایسی صورت میں اس سے مؤثر طور پر نپٹنے کے لئے بھی پوری طرح تیار تھے اور ایک ذرہ بھی اس بات سے مرعوب نہ تھے کہ آپ کی قلیل جماعت دشمن کی کثیر فوج کو کس طرح مدینہ پر حملہ سے باز رکھ سکے گی۔واقدی بیان کرتا ہے کہ جنگ احد کے فوراًبعد کفار کی فوج میدان چھوڑ کر بظا ہر مکہ کی جانب کوچ کر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے فرمایا کہ ذراتم جا کر ان کی خبر لاؤ کہ یہ کوچ کرتے ہیں یا ہمیں دھوکہ دے کر کوچ کے بہانے سے مدینہ پر چڑھائی کرنا چاہتے ہیں اور اس ذات پاک کی قسم ہے کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر یہ لوگ مدینہ پر دھاوا کریں گے تو میں ان کے مقابلہ میں ضرور جاؤں گا اور انکی شرارت کا بدلہ ان کو ابھی ہاتھوں ہاتھ چکا دونگا۔( شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۳۹۵) پس ۳۱ مارچ ۶۲۴ء کو بمطابق ۱۵ شوال ۲ ھ جب قلیل التعداد مسلمان فوج اور کفار کی کثیر فوج میں ٹکر ہوئی تو آنحضور کے اس انتہائی مدبرانہ جنگی اقدام کی فوقیت خوب کھل کر سامنے آگئی اور مسلمان اس یقین کی بناء پر خوب بے فکری اور بے جگری کے ساتھ دشمن پر حملہ آور ہوئے کہ ان کا