خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 326
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت ہو 326 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء جنگوں میں اونچ نیچ اور زیر و بم تو آتے ہی رہتے ہیں لیکن کم ہی کوئی مثال ایسی دکھائی دے گی کہ ایک ایسی شاندار فتح جو مسلمانوں کو آغاز احد میں نصیب ہوئی ایک ایسی پر خطر اور پر آشوب شکست میں بدلتی دکھائی دے کہ ابھی چند ہی لمحے قبل جو فوج اپنے کامل غلبہ کا جشن منارہی ہووہ اچانک اس درجہ مغلوب اور بے بس اور پراگندہ اور بے ثبات ہو جائے کہ اس کے صفحہ ہستی سے کلیہ نابود ہونے کا خطرہ درپیش ہو۔احد کے روز ایک ایسی ہی انقلابی تبدیلی رونما ہوئی جب اطاعت رسول کے طفیل حاصل نے والی فتح چند افراد کی حکم عدولی کے باعث یکا یک ایک ایسی ہولناک شکست میں تبدیل ہو جانے کوتھی جو تاریخ انسانی کا رخ پلٹ دینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔اللہ کی تقدیر تو جو چاہے کر سکتی ہے اور یہ اسی کی تقدیر تھی جس نے بالآخر ان حالات کا رخ پلٹ دیا لیکن اگر محض ایک مؤرخ کی آنکھ سے دیکھا جائے تو ان نگہبانوں کی غلطی جنہوں نے آنحضور کی اجازت کے بغیر درہ کی حفاظت چھوڑ دی تاریخ عالم کی سب سے زیادہ مہنگی اور ہلاکت خیز غلطی ثابت ہو سکتی تھی جس کے نتیجے میں اسلام اور اہل اسلام صفحہ ہستی سے مٹ کر ایک قصہ پارینہ بن سکتے تھے اور دنیا ایک ایسی تاریک رات میں ڈوب سکتی تھی جسے تا ابد پھر کوئی سورج روشنی بخشنے کے لئے طلوع نہ ہوتا۔ایک ایسی تاریک رات بنی نوع انسان پر مسلط ہو جاتی جس کے چاند تارے بھی ہمیشہ کے لئے بجھ چکے ہوتے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ان پچاس محافظین نے جب اپنے تئیں وہ مقصد پورا کر دیا جس کی خاطر انہیں درہ پر مامور کیا گیا تھا اور دشمن کی یلغار کواپنے تیروں کی بوچھاڑ سے ناکام بنادیا جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کو مکمل فتح نصیب ہو چکی ہے اور وہ مال غنیمت لوٹنے میں مصروف ہیں ، جب انہوں نے محسوس کیا کہ اب مزید اس درّہ پر بے کارکھڑے رہنا ایک فعل عبث ہے تو ان میں سے اکثر کے دل پھسل گئے اور اپنے سردار حضرت عبداللہ بن جبیر سے حجت کرنے لگے کہ اب درہ چھوڑ کر نیچے اتر جانا چاہئے اور مال غنیمت میں حصہ لینا چاہئے۔انہوں نے بہت سے دلائل دیئے کہ آنحضور کا اصل مدعا تو پورا ہو چکا ہے اس لئے اب درّہ کو خالی چھوڑ دینا آپ کے منشاء کے خلاف نہیں لیکن حضرت عبداللہ بن جبیر نے ان کی ایک نہ مانی اور اس تجویز کو یہ کہہ کر صاف ٹھکرادیا کہ یہ آنحضور کی ہدایات کے صریح خلاف ہے۔افسوس کہ اجازت مانگنے والوں کے سر میں اس وقت کچھ