خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 321
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 321 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء ان کھیتوں کو اجاڑے جانے کی خبر سے اہل مدینہ مجبور ہو جائیں کہ شہر سے باہر نکل کر کفار کے منتخب کردہ میدان میں ان کا مقابلہ کریں۔مسلمانوں کو اپنے شہر سے چند میل کے فاصلے پر نکل کر لڑنے پر مجبور کرنے میں بعض گہری فوجی چالیں مخفی تھیں اور متعدد فوائد حاصل ہونے کی توقع تھی اور حکمتوں کے علاوہ غالباً ایک یہ بھی حکمت ان کے پیش نظر تھی کہ اس پوزیشن میں لڑنے سے کفار کے بھاگ اٹھنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہونی تھی۔جنگ بدر کی شدید ہزیمت کی یاد بھی کفار کے دلوں میں تازہ تھی۔اگر ان کے منہ مدینہ کی طرف ہوتے اور مکہ عقب میں ہوتا۔تو جیسا کہ جنگ بدر میں ہوا پیچھے فرار کی کھلی راہ دیکھ کر اس بات کا پورا احتمال تھا کہ مسلمانوں کے شدید جوابی حملے سے بوکھلا کر ایک دفعہ پھر مشرکین مکہ راہ فرار اختیار کرنے میں جلدی کرتے لیکن مدینہ کو سامنے رکھ کر اور احد پہاڑ کو اپنی پشت پر رکھ کر یہ احتمال کم ہو جاتا تھا۔مسلمان فوج سامنے ہونے کی صورت میں ان کو مغلوب کئے بغیر مکہ کی طرف بھاگنا ممکن نہ تھا اور اگر مسلمان مغلوب ہو جاتے تو فرار کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی تھی۔اس سے بڑھ کر فائدہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو مدینہ سے اتنے فاصلے پر آکر لڑنا پڑتا تھا کہ میدان جنگ مدینہ سے ملحق بھی نہ تھا اور اتنی دور بھی نہیں کہ اگر خطرہ در پیش ہو تو بھاگ کر مدینہ جانے کا خیال ہی دل میں پیدا نہ ہو سکے۔اس صورتحال کے نتیجہ میں کفار کا یہ تخمینہ لگانا بعید از قیاس نہیں تھا کہ اگر مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ جائیں اور بھاگتے ہوئے مدینہ میں داخل ہوں تو کفار سپاہی بھی ان کے ساتھ ہی حملہ کرتے ہوئے مدینہ میں داخل ہو سکتے تھے اور مدینہ کی چھتوں پر جو پتھر اس خیال سے جمع کئے گئے تھے کہ اگر دشمن شہر میں داخل ہو تو اس پر عورتیں اور بچے شدید پتھراؤ کریں گے وہ مقصد مسلمانوں کو حاصل نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ جب دشمن کی فوج دفاعی فوج کے ساتھ ملی جلی شہر میں داخل ہو رہی ہو تو اس پر پتھراؤ کرنا ممکن نہیں رہتا۔دوسرا امکانی فائدہ کفار کو یہ پہنچ سکتا تھا اور غالبا یہی ان کا اصل مدعا تھا کہ وہ مسلمانوں کا مکمل گھیراؤ کرنا چاہتے تھے۔ان کے پاس دو سو گھوڑے تھے جب کہ مسلمانوں کے پاس صرف دو گھوڑے تھے۔پس اگر مسلمان مدینہ سے تین چار میل شمال کی جانب آکر لڑتے تو ان کے اور مدینہ کے درمیان اتنا فاصلہ رہ جاتا کہ ان کا عقب محفوظ نہ رہتا اور اہل مکہ کا گھوڑ سوار جنگی دستہ جب چاہتا بجلی کی سی تیزی