خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 322
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 322 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء کے ساتھ ان کے عقب میں پہنچ کر ان کو مکمل گھیرے میں لے لیتا۔لازما گھوڑ سوار دستہ کا یہ حملہ مسلمانوں کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔پس غالب گمان یہی ہے کہ ان کا دراصل یہی مقصد تھا۔اگر چہ جس طرح وہ چاہتے تھے یہ مقصد بعینہ اسی طرح ان کو حاصل نہ ہو سکا لیکن شروع جنگ ہی سے خالد بن ولید کا بار بار گھوڑ سوار دستوں کے ساتھ مسلمانوں کے عقب میں پہنچنے کی کوشش کرنا صاف بتا رہا ہے کہ میدان کے اس انتخاب میں کفار کا اولین مقصد یہی تھا کہ مسلمانوں پر عقب سے حملہ کیا جائے اور خالد بن ولید ہی اس سکیم کے بانی مبانی تھے کیونکہ شروع سے آخر تک یہ دھن جنون کی طرح انہی پر سوار رہی۔بہر حال سالاران کفار نے اپنی دانست میں میدان کا ہر پہلو سے بہترین انتخاب کیا لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فراست کے سامنے ان کی یہ تدبیرا کارت گئی۔کوئی شخص یہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ کسی شہر کا کوئی دفاع کرنے والا ایسا بھی ہو سکتا ہے جو اپنے شہر کی سمت تو خالی چھوڑ دے اور حملہ آور دشمن کے دوسری طرف جا کر ایسی پوزیشن اختیار کرے کہ اس کے اور اس کے شہر کے درمیان دشمن حائل ہو جائے۔لہذا اسی خیال کو بعید از قیاس خیال کرتے ہوئے کفار مکہ نے احد کے بالکل دامن میں اترنے کی بجائے اتنے فاصلے پر پڑاؤ کیا کہ ان کے اور احد پہاڑ کے درمیان اتنی کھلی جگہ بچ گئی کہ جس میں بآسانی ایک اور لشکر بھی سما سکتا تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب جائزہ کے لئے نمائندہ بھیجا تو اس کی رپورٹ پر آپ نے یہ حیرت انگیز فیصلہ فرمایا کہ مدینہ کی سمت خالی چھوڑ کر دشمن کے پر لی طرف پڑاؤ کیا جائے۔لیکن اس ارادہ کو آنحضور نے مدینہ سے رخصت ہوتے وقت کسی پر ظاہر نہ فرمایا بلکہ کچھ راستہ طے کرنے کے بعد صحابہ سے یہ سوال کیا کہ کون ہے جو ہمیں ایسے راستے سے دشمن کے پر لی طرف اُحد کے دامن میں لے جائے کہ دشمن کو اس کی خبر نہ ہو۔یہ تو وہی بتا سکتا ہے جو تمام دنیا کی جنگی تاریخ پر عبور رکھتا ہو کہ کیا کسی جگہ دنیا کے کسی جرنیل نے بھی ایسا غیر معمولی فیصلہ کیا کہ اپنے شہر کے راستے دشمن کے لئے خالی چھوڑ کر اس کی پرلی طرف اپنی فوج کو لے گیا ہو اور لطف یہ کہ یہ فیصلہ ہر لحاظ سے درست ثابت ہوا ہو اور کھلا ہونے کے باوجود وہ شہر بھی دشمن کے حملہ سے محفوظ رہا ہو۔جب تک کوئی انتہائی باریک نظر سے اپنی اور دشمن کی فوج کی تعیناتی کیفیات اور دیگر حقائق کا صحیح مطالعہ نہ کر چکا ہوا ایسا فیصلہ ناممکن ہے۔