خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 320
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 320 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء ابھرتے ہوئے جرنیل کا مقابلہ دنیا کے کسی جرنیل سے نہیں بلکہ اللہ کے ایک بندے اور اس کے رسول محمد سے ہوا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو دنیائے حرب کا نہیں بلکہ امن کی دنیا کا شہزادہ تھا۔اسے شمشیر وسنان اور تیر و تفنگ سے کوئی علاقہ نہ تھا۔وہ دنیا میں محض اپنے رب کا نور پھیلانے اور اس کی محبت کے لافانی گیت گانے کے لئے آیا تھا۔وہ اس لئے آیا تھا کہ اس کی رحمت کے سائے افق تا افق محیط ہو جائیں اور کل عالم کے شرقی اور غربی ، کالوں اور گوروں کو اپنی رحمت کے پر امن اور ٹھنڈے سائے تلے لے لے۔معرکہ احد کا دن خالد کی زندگی کا وہ سب سے تاریک دن تھا جب اس کا مقابلہ رب جلیل کے بندہ جلیل محمد مصطفی سے احد کی سنگلاخ سرزمین پر ہوا۔اس روز اس کی حکمت اور تدبیر کا سارا تانا بانا ٹوٹ کر بکھر گیا۔اس کی ہر مخفی تدبیر اللہ کے اس ذکی و فہیم بندے پر روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی جو بظاہر انسان کی آنکھ سے دیکھتا تھا لیکن فی الحقیقت اسے خدا کا نور بصیرت عطا ہوا تھا۔بلاشبہ خالد کو اپنی ساری زندگی کسی کے ہاتھوں کبھی ایسی ذلت اور خواری نصیب نہ ہوئی کہ اس کی ہر ماہرانہ چال کو سمجھ کر اس سے بہتر چال چل دی گئی ہوا اور نمایاں عددی اکثریت اور غالب عسکری قوت کے باوجود وہ آخری غلبہ سے محروم کر دیا گیا ہو۔سب سے اہم اور بنیادی اور سخت حیران کن بات جو آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت عملی کی تھی وہ میدان جنگ کے انتخاب سے تعلق رکھتی ہے۔میدان کا تعجب انگیز انتخاب مکه، مدینہ کے جنوب میں تقریباً اڑھائی صد میل کے فاصلہ پر واقع ہے اور بظاہر عقل یہی تقاضا کرتی ہے کہ مکہ سے مدینہ پر حملہ کرنے والا لشکر جنوب کی جانب سے مدینہ پر حملہ کرے گا لیکن حملہ آور قریش سرداروں نے جن کے فیصلوں میں خالد بن ولید ایسے زیرک ماہر حرب کی رائے کو بڑا دخل تھا ، مدینہ کے قریب پہنچ کر سیدھا اس کی طرف بڑھنے کی بجائے اسے اپنے بائیں ہاتھ چھوڑ دیا اور مشرق کی طرف سے بڑھتے ہوئے تقریباً چار میل شمال میں پہنچ کر احد پہاڑ کے قریب پڑاؤ کیا۔اس میدان کو منتخب کرنے کی وجوہات کی تفصیلی بحث تو تاریخ میں نہیں ملتی ہاں اس امر کا ذکر ضرور آتا ہے کہ لشکر کفار جہاں تھا وہاں انصار کی کھیتی باڑی کے میدان بھی تھے اور کفار کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ