خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 319
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 319 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء انتقام لینے کے لئے اس نیت سے گھر سے نکلے ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کو کلیہ نابود کر دینے کے بعد ہی وہ واپس لوٹیں گے۔بکثرت اونٹوں کے علاوہ دو سو بہترین جنگی گھوڑے بھی ان کے ساتھ تھے جنہیں خاص اسی مقصد سے تربیت دے کر خوب تیار کیا گیا تھا۔اس لشکر کی کمان ابوسفیان کے ہاتھ میں تھی جس کے نائبین میں افق حرب پر ابھرنے والا ایک ایسا جو ہر قابل بھی تھا جسے آج ہم اللہ کی تلوار خالد بن ولیڈ کے نام سے جانتے ہیں۔لیکن جن دنوں کی ہم بات کر رہے ہیں ان دنوں ابھی یہ تلوار مالک حقیقی کے ہاتھ میں نہیں بلکہ خداوندان باطل اہل ھبل کے ہاتھ میں تھی۔لشکر کفار کے دائیں بازو کے سالا راس نوجوان خالد کی بعد کی زندگی پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایسی حیرت انگیز جنگی استعدادوں کا مالک تھا کہ کم ہی ماؤں نے دنیا میں ایسے بچے جنے ہیں جو اس جیسے فنون حرب کے دھنی ہوں۔خالد بن ولید ایک پیدائشی سپہ سالار تھے جو فن حرب کی حیران کن استعدادیں لے کر پیدا ہوئے اور ان تمام قائدانہ صلاحیتوں سے نوازے گئے جن کی میدان جنگ میں کسی قائد کو کسی رنگ میں ضرورت پیش آسکتی ہے۔تمام زندگی خالد کو کوئی مد مقابل ایسا نہ ملا جوان کی حیرت انگیز شاطرانہ جنگی چالوں کو سمجھ سکا ہو۔خالد میدان جنگ میں مہروں کی ایک ایسی بساط سجاتے تھے جسے کوئی مدمقابل مات نہ دے سکا۔بلاشبہ اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو تاریخ عالم میں خالد کا ہم پلہ جرنیل شاذ ہی کوئی پیدا ہوا ہوگا۔عظیم سلطنت روما اور عظیم تر فارس کے بڑے بڑے آزمودہ کا راور کہنہ مشق جرنیلوں نے جب خالد سے زور آزمائی کی، اپنی بے پناہ شان و شوکت اور لشکر آرائی کے باوجود وہ خالد کی قیادت میں لڑنے والی مٹھی بھر فوج کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کھانے پر مجبور ہوئے۔جب تک وہ زندہ رہا حرب کی دنیا میں اس جیسا کسی نے کوئی اور نہ دیکھا۔جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوا تو جریدہ عالم پر اپنی بے مثل سپہ گری کا ایسا نقش ثبت کر گیا جو دائمی اور انمٹ ہے۔بے شک تاریخ عالم پر نظر دوڑا کر دیکھیں اس جیسا زیرک اور حوصلہ مند اور جنگ کی باریک در بار یک حکمتوں کو سمجھنے والا شاید ہی کوئی دکھائی دے جو بار بار بے سروسامانی اور کم مائیگی کی حالت میں دنیا کی عظیم طاقتوں سے ٹکرایا ہو اور ہر بار ان کی عظیم پر ہیبت جمعیتوں کو ذلت ناک شکست دے کر پراگندہ اور پریشان نہ کیا ہو۔خالد کی یہ سب تعریف درست اور بے خطا ہے، اس میں مبالغہ کا کوئی عنصر شامل نہیں مگر ایک بار ہاں اس کی ساری زندگی میں صرف ایک باراس