خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 309 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 309

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 309 فلسفہ حج ۷۷۹۱ء 66 تعالیٰ نے ایک دوسرے کے حملے سے قیامت تک کے لئے محفوظ کر دیا ہے۔“ تمہاری جانوں اور تمہارے مالوں کو خدا تعالیٰ نے ایک دوسرے کے حملے سے قیامت تک کے لئے محفوظ کر دیا ہے۔یہ ہے حج کا پیغام۔خدا تعالیٰ نے ہر شخص کے لئے وراثت میں اس کا حصہ مقرر کر دیا ہے کوئی وصیت ایسی جائز نہیں جو دوسرے کے حق کو نقصان پہنچائے“ پھر فرمایا: ( صحیح بخاری کتاب الحج باب خطبتہ ایام معنی ) ”اے لوگو! تمہارے کچھ حق تمہاری بیویوں پر ہیں اور تمہاری بیویوں کے کچھ حق تم پر ہیں۔یادرکھو کہ ہمیشہ اپنی بیویوں سے اچھا سلوک کرنا۔“ (سنن ترمذی کتاب الرضاع باب ما جاء فی حق المرأة على زوجها ) یہ فلسفہ حج ہے جس کی طرف جماعت کو توجہ کرنی چاہئے کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کی نگہداشت تمہارے سپرد کی ہے۔عورت کمزور وجود ہوتی ہے اور اپنے حقوق کی خود حفاظت نہیں کر سکتی تم نے جب ان کے ساتھ شادی کی تو خدا تعالیٰ کو ان کے حقوق کا ضامن بنایا تھا اور خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت تم ان کو اپنے گھروں میں لائے تھے پس خدا تعالیٰ کی ضمانت کی تحقیر نہ کرنا اور عورتوں کے حقوق ادا کرنے کا ہمیشہ ہیں: خیال رکھو۔“ کوئی پہلو حج کے فلسفہ کا جس کا بنی نوع انسان سے تعلق ہے آپ نہیں چھوڑتے فرماتے اے لوگو تمہارے ہاتھوں میں ابھی کچھ جنگی قیدی بھی باقی ہیں" خطبہ حج ہے آخری خطبہ ہے اور دیکھئے کس کس کے حقوق کا تصور دماغ میں ہے، کس کس کا غم آپ کو کھائے جا رہا ہے: بھی کچھ جنگی قیدی باقی ہیں میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ان کو وہی