خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 310
فلسفہ حج ۷۷۹۱ء تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 310 کچھ کھلانا جو تم خود کھاتے ہو اور ان کو وہی کچھ پہنانا جو تم خود پہنتے ہو۔اگر ان سے کوئی ایسا قصور ہو جائے جو تم معاف نہیں کر سکتے تو ان کو کسی اور کے پاس فروخت کر دو کیونکہ وہ خدا کے بندے ہیں اور ان کو تکلیف دینا کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔( مسند احمد بن حنبل جزء ۴ صفحہ ۳۶) پھر فرمایا: ”اے لوگو جو کچھ میں تمہیں کہتا ہوں سنو اور اچھی طرح اس کو یا د رکھو ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔تم سب ایک ہی درجہ کے ہو۔تم تمام انسان خواہ کسی بھی قوم اور کسی حیثیت کے ہوانسان ہونے کے لحاظ سے ایک درجہ رکھتے ہو۔“ ( سنن ترمذی کتاب التفسير القرآن باب ومن سورة التوبة ) پھر فرمایا: و کیا تمہیں معلوم ہے کہ آج کونسا مہینہ ہے؟ کیا تمہیں معلوم ہے یہ علاقہ کون سا ہے؟ کیا تمہیں معلوم ہے یہ دن کونسا ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں اے آقا! یہ مقدس مہینہ ہے، یہ مقدس علاقہ ہے اور یہ حج کا دن ہے۔“ ہر جواب پر رسول کریم اللہ فرماتے تھے: جس طرح یہ مہینہ مقدس ہے، جس طرح یہ علاقہ مقدس ہے، جس طرح یہ دن مقدس ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی جان اور اس کے مال کو مقدس قرار دے دیا ہے اور کسی کی جان اور کسی کے مال پر حملہ کرنا ایسا ہی ہے ناجائز ہے جیسے کہ اس مہینے اور اس علاقے اور اس دن کی ہتک کرنا۔یہ حکم آج کے لئے نہیں کل کے لئے نہیں بلکہ اس دن تک کے لئے ہے کہ تم خدا سے جا کر ملو ( صحیح بخاری کتاب الحج باب خطبة الحج ایام منی ) پھر فرمایا: دو یہ باتیں جو میں تمہیں آج کہتا ہوں ان کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دو کیونکہ ممکن ہے جو لوگ آج مجھ سے سن رہے ہیں ان کی نسبت وہ لوگ اس پر زیادہ