خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 308
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 308 فلسفہ حج ۷۷۹۱ حجۃ الوداع کے موقعہ پر آپ نے جو حج کا پیغام، حج کا فلسفہ بیان فرمایا اس پر آپ غور کریں تو حیران رہ جائیں گے کہ تمام کی تمام باتیں بنی نوع انسان کے حقوق سے تعلق رکھتی ہیں وہاں عبادت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔مطلب تھا کہ عبادت تو تم کر چکے لیکن یہ نہ سمجھنا کہ انقطاع الی اللہ کا مطلب یہ ہے کہ بنی نوع انسان کو بھول کر تم خدا میں غائب ہو جاؤ اور پھر بنی نوع انسان کی طرف توجہ ہی نہ کرو۔خدا میں غائب ہونے کا وہ مطلب ہے جو میں نے کر کے دکھایا ہے۔مجھ سے زیادہ خدا کے کوئی قریب نہیں تھا لیکن میں غائب نہیں ہوا اپنے بھائیوں سے۔میں تو ایسا دردمند ہوا، لوٹا واپس بنی نوع انسان کو بلانے کے لئے ،ان سے پتھر کھائے ، ان سے ماریں کھائیں، ان کی گالیاں سنیں ، ہر دکھ جو ایک انسان انسان کو دے سکتا ہے مجھے دیا گیا۔لیکن پھر بھی میں خدا سے غائب اس طرح نہیں ہوا کہ ان کو بھول جاؤں، ان کی طرف لوٹا ، ان کی مصیبتیں برداشت کیں تکلیفیں برداشت کیں اور انہیں پیغام دیتا رہا۔میں خون بہاتا رہا وہ خون لیتے رہے، میں گالیاں سنتار ہاوہ گالیاں دیتے رہے، میں پتھر کھاتا رہا وہ پتھر مارتے رہے لیکن پھر بھی میں ان کو اس حال میں بلاتا رہا کہ میری جان ان کی راہ میں ہلکان ہوئی۔خدا تعالیٰ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ إِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا (الكيف :) پھر فرماتا ہے: لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ) (الشعراء: ٢) اے میرے پیارے محمد ﷺ ! کیا تو ان لوگوں کی خاطر ہلاک ہو رہا ہے جو ایمان نہیں صلى الة لا رہے؟ اس لئے کہ ایمان نہیں لا رہے تو اپنے آپ کو غم میں ہلاک کرتا چلا جارہا ہے!! یہ ہے وہ فلسفہ حج جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت محمد مصطفی ﷺ نے الوداعی خطبہ دیا آخری حج کے موقع پر خطبہ فرمایا۔آپ دیکھیں میں نے اس میں سے چند اقتباسات لئے ہیں ان سب کا تعلق بنی نوع انسان کے ساتھ ہے آپ فرماتے ہیں: ”اے لوگو میری بات کو اچھی طرح سنو کیونکہ میں نہیں جانتا کہ اس سال کے بعد کبھی بھی میں تم لوگوں کے درمیان اس میدان میں کھڑے ہو کر کوئی تقریر کروں گا۔تمہاری جانوں اور تمہارے مالوں کو خدا