خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 307 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 307

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت ہو جاتے ہیں۔307 پھر قرآن کریم حج کے ایک اور مقصد کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے: جَعَلَ اللهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيمًا لِلنَّاسِ وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ وَالْهَدْيَ وَالْقَلَابِدَ ذلِكَ لِتَعْلَمُوا اَنَّ اللهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَانَّ اللهَ بِكُلِّ شَيْ ءٍ عَلِيمٌ (المائده: ۹۸) فلسفہ حج ۷۷۹۱ء کہ اللہ نے کعبہ یعنی محفوظ گھر کولوگوں کی دائمی ترقی کا ذریعہ بنایا ہے اور نیز حرمت والے مہینے اور قربانی کو اور جن جانوروں کے گلے میں پٹہ ڈالا گیا ہو اور ان کو بھی۔یہ اس لئے کیا کہ تم جان لو کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ سب کو جانتا ہے۔یہاں جو بنیادی چیز بیان کی گئی وہ ہے قِيمًا لِّلنَّاس کہ حج کولوگوں کے قیام کی خاطر بنایا گیا ہے یعنی حج میں وہ فلسفہ اور وہ پیغام ہے کہ جس کو اگر بنی نوع انسان سمجھ جائیں تو انسانیت باقی رہ سکتی ہے۔انسان اس دنیا میں جی سکتا ہے بطور انسان کے لیکن اگر اس فلسفہ کو بھلا دیا گیا تو پھر اس دنیا میں انسان بھی باقی نہیں رہے گا۔حج میں وہ پیغام ہے بنی نوع انسان کے لئے جس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں انسانیت کی حفاظت ہوگی۔بنی نوع انسان اس دنیا میں آزادانہ شرف انسانی کو قائم رکھتے ہوئے زندہ رہیں گے لیکن اگر اس پیغام کو بھلایا گیا تو انسانیت اس صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔حج ہی کے ذریعہ اس انسانیت کا قیام ہے یہ کیسے ہے؟ بظاہر یہ عجیب بات نظر آتی ہے۔ہم تو اب تک جتنی باتیں کرتے چلے آئے ہیں حج کے متعلق ان سب کا تعلق تو حقوق اللہ سے تھا حقوق العباد کا تو وہاں بظاہر کچھ نظر نہیں آتا۔اپنے آپ کو ہر رنگ میں خدا کے سامنے پیش کر دینا۔اس مسئلہ کا صلى الله حل کہ قِيمًا لِلنَّاس کیسے ہو گیا حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ہمارے لئے کر دیا۔حج کے بعد حج جو پیغام دیتا ہے بنی نوع انسان کو وہ پیغام یہ ہے کہ خدا سے ملنے کے بعد بنی نوع انسان کی طرف لوٹ جاؤ۔اگر خدا کے حقوق ادا کرتے ہو تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ خالق کے حقوق تو ادا کر رہے ہو اور مخلوق کے حقوق بھول جاؤ۔دَنَا فَتَدَلَّى (النجم : 9) کا مضمون کامل ہو جاتا ہے حج کے پیغام میں۔چنانچہ حضرت محمد مصطفی لا الہ اس کا خلاصہ حجتہ الوداع کے موقعہ پر پیش کرتے ہیں۔مصلى الله