خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 297 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 297

فلسفہ حج ۷۷۹۱ء تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 297 ہوئے فرماتے ہیں: ( یہ سب کیا ہے عشق کے سواہاں والہانہ عشق کے سوا اور کچھ نہیں۔) اسلام نے۔۔۔۔محبت کی حالت کے اظہار کے لئے حج رکھا ہے خوف کے جس قدر ارکان ہیں وہ نماز کے ارکان سے بخوبی واضح ہیں کہ کس قدر تذلل اور اقرار عبودیت اس میں موجود ہے اور حج میں محبت کے سارے ارکان پائے جاتے ہیں۔بعض دفعہ شدت محبت میں کپڑے کی بھی حاجت نہیں رہتی۔عشق بھی ایک جنون ہوتا ہے کپڑوں کو سنوار کر رکھنا یہ عشق میں نہیں رہتا۔۔۔۔غرض یہ نمونہ جو انتہائے محبت کے لباس میں ہوتا ہے وہ حج میں موجود ہے۔سر منڈا یا جاتا ہے، دوڑتے ہیں۔محبت کا بوسہ رہ گیا وہ بھی ہے جو خدا کی ساری شریعتوں میں تصویری زبان میں چلا آیا ہے پھر قربانی میں بھی کمال عشق دکھایا ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۲ صفحہ: ۲۲۵) پھر فرمایا: خانہ کعبہ کا پتھر یعنی حجر اسود ایک روحانی امر کے لئے نمونہ قائم کیا گیا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو نہ خانہ کعبہ بناتا نہ اس میں حجر اسود کھتا لیکن چونکہ اس کی عادت ہے کہ روحانی امور کے مقابل پر جسمانی امور بھی نمونہ کے طور پر پیدا کر دیتا ہے تا وہ روحانی امور پر دلالت کریں اسی عادت کے موافق خانہ کعبہ کی بنیاد ڈالی گئی۔محبت کے عالم میں انسانی روح ہر وقت اپنے محبوب کے گرد گھومتی ہے اور اس کے آستانے کو بو سے دیتی ہے۔ایسا ہی خانہ کعبہ جسمانی طور پر محبان صادق کے لئے ایک نمونہ دیا گیا اور خدا نے فرمایا کہ دیکھو یہ میرا گھر ہے اور یہ حجر اسود میرے آستانے کا پتھر ہے اور ایسا حکم اس لئے دیا کہ انسان جسمانی طور پر اپنے ولولہ عشق اور محبت کو ظاہر کرے تو حج کرنے والے حج کے مقام میں جسمانی طور پر اس گھر کے گردگھومتے ہیں ایسی صورتیں بنا کر کہ گویا خدا کی محبت میں دیوانہ وار مست ہیں۔زینت دور کر دیتے ہیں، سر منڈا دیتے ہیں، مجذوبوں کی شکل بنا کر اس کے گھر کے گرد عاشقانہ طواف کرتے ہیں اور