خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 298
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 298 فلسفہ حج ۷۷۹۱ء اس پتھر کو خدا کے آستانے کا پتھر تصور کر کے بوسہ دیتے ہیں۔یہ جسمانی ولولہ روحانی تپش اور محبت پیدا کر دیتا ہے اور جسم اس کے گھر کا طواف کرتا ہے اور سنگ آستانہ چومتا ہے اور روح اس وقت محبوب حقیقی کے گردطواف کرتا ہے اور اس کی روحانی آشیانہ کو چومتا ہے۔کوئی مسلمان کعبے کی پرستش نہ حجر اسود سے مرادیں مانگتا ہے بلکہ صرف خدا کا قرار دادہ ایک جسمانی نمونہ سمجھا جاتا ہے و بس۔جس طرح ہم زمین پر سجدہ کرتے ہیں مگر وہ سجدہ زمین کے لئے نہیں ایسا ہی یہ حجر اسود کو بوسہ دیتے ہیں مگر وہ بوسہ اس پتھر کے لئے نہیں پتھر تو پتھر ہے جو نہ کسی کو نفع دے سکتا ہے نہ نقصان مگر اس محبوب کے ہاتھ کا ہے جس نے اس کو اپنے آستانہ کے لئے نمونہ ٹھہرایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس فلسفہ عشق کا ذکر فرمایا یہ محض کوئی نظریاتی بات نہیں محض کوئی فلسفہ نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں بعض ایسے واقعات ہیں جو ہمیشہ ہمیش کے لئے بنی نوع انسان کے لئے عشق کے نمونوں کے طور پر ہمارے لئے محفوظ کر دیئے گئے ہیں۔قرآن کریم ان واقعات کی طرف کہیں اشارہ ذکر فرماتا ہے اور کہیں تفصیل سے ان واقعات کا ذکر فرماتا ہے۔جب ہم ان واقعات پر نظر ڈالتے ہیں تب سمجھ آتی ہے کہ وہ کس قسم کا عشق ہے جس کا مطالبہ ہم سے کیا جا رہا ہے۔وہ چند دن نہیں جو حج میں گزار کر ہم آجاتے ہیں بلکہ وہ تو ایک نمونہ ہے جس کے مطابق ہمیں اپنی زندگیوں کو ڈھالنا ہے۔چنانچہ اس واقعہ کا ذکر قرآن کریم سے جو ملتا ہے وہ حضرت ابرا ہیم سے اس کا آغاز ہوتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق آتا ہے کہ آپ اپنی ایک بیوی اور ایک بچے کو لے کر خدا کی رضا کی خاطر اپنی رضا کی گردن پر اس کی چھری چلاتے ہوئے ایک ایسے بے آب و گیاہ ویرانے کی طرف چلے آئے جہاں دنیا کے لحاظ سے رہنے کی کوئی صورت نہیں تھی آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی بناء پر بیوی اور معصوم بچے کو ساتھ لیا جو بھی دودھ پیتا تھا اور وہ جگہ تلاش کی جہاں کسی زمانے میں خانہ کعبہ کا آغاز کیا گیا تھا۔ایک ٹیلہ بن چکا تھا وہاں اس کے گردریت کا، ارد گرد ذرا گہری جگہ بن گئی تھی۔آپ نے بڑی محنت سے اس کو تلاش کیا کشف کے مطابق اور وہاں اس خانہ کعبہ کی جگہ پر