خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 296 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 296

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 296 فلسفہ حج ۷۷۹۱ اس غرض سے دبلا کیا گیا ہو کہ وہ تیز چل سکیں۔یہاں سواری کا جو لفظ استعمال فرمایا اس سے مراد نہ گھوڑا ہے نہ اونٹ بلکہ ہر وہ سواری مراد ہے جسے اس غرض سے ہلکا پھلکا اور چست بدن کا بنایا گیا ہو کہ وہ تیز چل سکے۔پھر جو منظر کھینچا اس کے چلنے کا وہ ایسا عجیب ہے کہ پرانی سواریوں پر بھی اطلاق پاتا ہے اور نئی سواریوں پر بھی اطلاق پاتا ہے فرما ا يأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ فَجٍّ کا مطلب عربی لغت کے مطابق ہے مَشَى مُفَرِجًا وَ فَا تِحا مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ پر آتا ہے فَجَّ الشَّى أَى شَقَّها (القاموس المحیط زیر لفظ هذا) اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ کوئی سواری ایسی تیزی کے ساتھ چلے کہ اپنے سامنے کی فضا یا مٹی یا پانی کو اس طرح چیرتی ہوئی چلی جائے کہ اس میں گہری گھاؤ پڑ جائیں۔پس جیٹ ہوائی جہاز جب چلتا ہے تو وہ بھی فج عمیق میں سے گزرتا ہوا آتا ہے۔وہ سٹیمر جو ہلکے بدن کا چست بدن کا تیزی کے ساتھ سمندر کی لہروں کو پھاڑتا ہے وہ بھی فج عمیق میں سے گزرتا ہے اور وہ سواریاں جو زمین میں گہری لکیریں ڈالتی ہوئی چلتی ہیں رفتار کے باعث وہ بھی فَج عمیق میں سے آتی ہیں۔تو قرآن کا یہ کیسا معجزہ ہے کہ ہر زمانے کی سواریوں کا ان نہایت ہی پیارے مختصر الفاظ میں ذکر فرما دیا۔لیکن اس میں دراصل ولولہ اور عشق اور تیزی کی طرف اشارہ ہے اور حج کا فلسفہ اگر ایک لفظ میں بیان کرنا مقصود ہو تو وہ عشق ہی ہے۔جو مناسک حج میں ادا کئے جاتے ہیں جو حرکتیں انسان جا کر، خدا سے محبت کرنے والے بندے اس کے ، عبادت کرنے والے کرتے ہیں وہ ساری نہ صرف عشق بلکہ مجنونانہ عشق کی علامتیں ہیں۔تمدن کے کپڑے اتار دینا ، دو چادروں میں ملبوس ہو جانا، صحراؤں میں جا کر ڈیرے ڈال دینے ، گھروں کے گرد گھومنا دیوانہ وار، پہاڑیوں کے درمیان سعی کرنا، سرمنڈا دینا، قربانی کرنا اور بار بار بڑے والہانہ عشق کے انداز کے ساتھ یہ کہنا لَبَيْكَ اللَّهُم لَبَّیک لَا شَريكَ لَكَ لَبَّيْكَ والحَمدُ والنَّعْمَةُ لَكَ لَا شَرِیک لک کہ حاضر ہوں اے میرے آقا! اے میرے رب ! میں حاضر ہوں۔تیرا کوئی شریک نہیں تجھ سا کوئی نہیں میں حاضر ہوں۔ہر تعریف تیرے لئے ہے۔ہر نعمت تجھ ہی سے ہے۔آقا تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں۔یہ جذبات عشق اور دیوانہ وار وہاں گھومنا یہ سب کچھ عشق ہی کے تو مناظر ہیں۔ایسے عشق کے مناظر جس کی کوئی نظیر دنیا میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس فلسفہ کو بیان کرتے