خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 295
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 295 فلسفہ حج ۷۷۹۱ء فلسفه حج ( بر موقع جلسہ سالانہ ۱۹۷۷ء) تشہد وتعوذ کے بعد آپ نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: وَاذِنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَّأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُوْمَةٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَكُلُوْا مِنْهَا وَاَطْعِمُوا الْبَابِسَ الْفَقِيرَ ثُمَّ ليَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ (الحج: ۲۸-۳۰) قرآن کریم کی جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان میں عظیم واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے حج کے لئے لوگوں کو بلانے کا ارشاد فرمایا۔اس آیت میں متفرق حج کے فلسفہ کے پہلوؤں کا ذکر ہے لیکن اس پہلے حصہ سے جس مضمون کا تعلق ہے وہ بلانے کے نتیجہ میں جو نتیجہ ظاہر ہونا تھا اس وقت تک محدود ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَّأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ کہ میں تجھے حکم دیتا ہوں کہ تو بلا اور تجھ سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ تیری آواز بے کا رنہیں جائے گی۔لوگ والہانہ جوش عشق کے ساتھ پیدل بھی اور ایسی سواریوں پر بھی دوڑتے ہوئے تیری طرف آئیں گے جن کو