خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 293
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 293 قیام نماز ۶۷۹۱ء کس پیار سے ، کس محبت سے آنحضرت یہ ذکر فرماتے ہیں اور آپ کو نماز کی طرف بلاتے ہیں۔پانچ وقت مسجد سے اذانوں کی آواز میں بلند ہوتی ہیں لیکن بعض دفعہ دل خون ہو جاتا ہے دیکھ کر کہ احمدی ان عظیم الشان دعاوی کے باوجود یہ لوگ بچے بھی واقعی محبت رکھتے ہیں محمد مصطفیٰ سے ورنہ کیوں اتنی قربانیاں دیں۔محض لاعلمی میں محض غفلت کی وجہ سے بعض والدین کی تربیت کی کمزوری کی وجہ سے اس فریضہ سے غافل ہو جاتے ہیں کھڑے ہیں باتیں کر رہے ہیں خیال ہی نہیں آرہا کہ خدا ان کو اپنی طرف بلا رہا ہے۔اس لئے میں آپ کو دوبارہ تاکید آیہ عرض کرتا ہوں میرے پاس الفاظ نہیں کہ جن کے ذریعہ میں آپ کو سمجھا سکوں کہ اس کی کتنی اہمیت ہے۔دل میرے ہاتھ میں نہیں ہیں۔دل تو کسی کے ہاتھ میں نہیں سوائے خدا کے لیکن اس کے حضور ہم عرض تو کر سکتے ہیں روروکر کہ اے خدا ! ہمارے اندر اپنے فضل سے جس طرح تو نے فرمایا تھا اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہم عبادت کرنا چاہتے ہیں اپنے فضل سے قائم فرما دے۔ہمارے دلوں کو پھیر دے ہمارے دلوں میں اس کی اہمیت کو راسخ کر دے۔کوئی شخص ہم میں بے جماعت نماز پڑھنے والا نہ ہو۔مسجد سے اذان ہو تو جوق در جوق دوڑتے ہوئے لوگ مسجدوں کی طرف جایا کریں۔احمدیت کی شان جس طرح نظریات میں ہے اس طرح اعمال میں ظاہر ہوا ایسا حسین معاشرہ ہم دنیا میں قائم کر دیں کہ یہ معاشرہ خود کہے کہ یہ ہیں غلام محمد مصطفیٰ " کے ، ان کے سوا اور کوئی غلام تمہیں اس شان کا نہیں نظر آسکتا۔دیکھئے احمدیت کی زندگی مسجدوں سے وابستہ ہے ،احمدیت کا مستقبل مسجدوں سے وابستہ ہے، احمدیت کا اطمینان ، احمدیت کا سکون مسجدوں میں لٹکا ہوا ہے، وہ دل جو مسجدوں سے لٹکے رہتے ہیں ان دلوں کے لئے خدا تعالیٰ نے اطمینان اور سکینت کی ضمانت دے دی ہے۔پس مسجدوں کی طرف جائیں۔یہ وقت ایسا ہے کہ جس کے لئے ساری قوم کو جد و جہد کی ضرورت ہے۔مجھے بعض دفعہ جنگ حنین کا وہ واقعہ یاد آ جاتا ہے جب کہ وقتی طور پر بعض دفعہ ایک کمزوری آجاتی ہے مسلمانوں میں میدان جنگ میں بھی پاؤں اکھڑ جاتے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ اگر یہ کمزوری ہے تو وقتی ہے انشاء اللہ۔جماعت بڑی شان اور قوت کے ساتھ اس کمزوری کو دور کرے گی۔مجھے واقعہ یہ یاد آتا ہے کہ جنگ حنین کے وقت ایک دفعہ وقتی طور پر صحابہ کے پاؤں اکھڑ گئے اور صلى الله محمد مصطفی قریباً تنہا رہ گئے ایک دو صحابی پاس تھے۔اس وقت آنحضرت ﷺ نے