خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 292
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 292 قیام نماز ۶۷۹۱ء حضور یہ کیا کرتے تھے کہ نماز پڑھ کے آئے اور گھروں کا چکر لگایا۔کوئی بچہ کھیل رہا تو اس کو بلا لیا کبھی سمجھایا بعض دفعہ اکٹھے چار پانچ بچے پکڑ لئے ایک لائن میں کھڑا کیا اور ان کو سزا دی۔تو اول تو سزا کی ضرورت نہیں ہوتی تھی حضور کی ناراضگی ایسی تکلیف دہ چیز تھی سب کے لئے سب احباب جماعت کے لئے کہ وہی بڑی سزا ہو جایا کرتی تھی مگر بڑی پابندی کے ساتھ حضور ہمیشہ اپنے اہل وعیال کو نماز پر قائم فرماتے رہے۔آنحضر ﷺ نے اپنی نصائح میں کوئی کسی کے لئے ایسا بہانہ نہیں رہنے دیا کہ وہ نماز با جماعت کو قائم نہ کر سکے۔ایک جگہ حضور سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ! میں اکیلا ہوں سفر پر تو پھر میں نماز با جماعت کس طرح قائم کروں آپ نے فرمایا کہ اگر تم اکیلے ہوتو اذان دو۔اذان کو سن کر اگر کوئی شخص کوئی راہی، کوئی مسافر تمہارے ساتھ شامل ہو گیا تو ویسے ہی تمہاری با جماعت نماز ہوگئی لیکن اگر کوئی نہ شامل ہوا تو تم تکبیر کہو اور باجماعت نماز پڑھاؤ خدا کے فرشتے اتریں گے اور تمہارے ساتھ اس نماز کو باجماعت کر دیں گے۔( صحیح بخاری کتاب الاذان باب رفع الصوت بالنداء) احمدی زمینداروں کو چاہئے کہ وقت ہو، ہل چھوڑ دیں اور باجماعت نمازیں پڑھیں۔آپ کو مسجدوں کا شکوہ ہے۔مسجدوں کا کیا شکوہ کہ مسجدیں نہیں مل رہیں، محمد مصطفی کے لئے تو خدا نے ساری زمین کو مسجد بنادیا ہے۔رسول الل فرماتے ہیں میری خاص شان میں سے ایک یہ شان ہے کہ ساری زمین میرے لئے مسجد بنادی گئی۔( صحیح بخاری کتاب الصلوۃ باب قول النبي جعلت لى الارض مسجداً) الله پس اے احمدی ! تجھ سے کوئی مسجد نہیں چھین سکتا قیامت تک تجھے یہ شکوہ نہیں ہوسکتا کہ ہمارے لئے مسجد نہیں تھی باجماعت نماز پڑھنے کے لئے۔جہاں دو گز زمین میسر ہو وہاں نماز با جماعت کرالیا کریں اور یہ جماعت خدا کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہوگی۔حضرت رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک گڈریہ سے بڑا پیار کرتا ہے۔بڑی محبت سے اس کو دیکھتا ہے اس کی کیا عادت ہے؟ اس کی عادت یہ ہے کہ بھیڑیں چراتے ہوئے جب نماز کا وقت آتا ہے تو وہ اذان دیتا ہے اور پھر تکبیر کہتا ہے اور پھر اکیلا با جماعت نماز پڑھتا ہے اللہ کہتا ہے رسول صلى الله ال کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دیکھو میرے اس پیارے بندے کو تو دیکھو! کس طرح نماز قائم کر رہا ہے اور صرف اس لئے کہ مجھ سے ڈرتا رہتا ہے۔(سنن نسائی کتاب الاذان باب الاذان لمن يصلى وحده )