خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 284
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 284 قیام نماز ۶۷۹۱ء ہیں کہ در داور تکلیف کی وجہ سے پاؤں گھسٹ رہے تھے برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ زمین پر قدم اپنا بوجھ اٹھائے، گھسٹتے ہوئے گئے اور اس طرح مسجد میں جا کر آپ نے حضرت ابو بکر کے ایک طرف بیٹھ کر نماز اس طرح پڑھائی کہ نماز آپ پڑھانے لگے اور ابو بکرہ تکبیر کہنے لگے۔(صحیح بخاری کتاب الاذان باب انما جعل الامام لیوتم بہ ) ایک اور روایت میں آتا ہے کہ آخری دیدار میں نے رسول کریم کا مسجد میں اس طرح کیا کہ حضور بیمار تھے اور نماز نہیں پڑھا سکتے تھے۔حضور دو آدمیوں کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے مسجد کی طرف آئے، پردہ اٹھایا اور نمازیوں کو نماز پڑھتے دیکھا۔اس محبت سے دیکھا چہرے پر ایسی بشاشت پیدا ہوئی وہ کہتے ہیں چاندنی رات تھی میں کبھی چاند کو دیکھتا تھا کبھی محمد مصطفی کے چہرے کو دیکھتا تھا اور خدا کی قسم محمد مصطفیٰ" کا چہرہ زیادہ خوبصورت اور حسین نظر آ رہا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کے کامل غلام ، عاشق کامل ، آپ کا وصال بھی اسی حالت میں ہوا۔روایت میں آتا ہے جب ذرا روشنی ہوگئی۔( یہ آخری لمحات ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ) جب ذرا روشنی ہوگئی تو حضور نے پوچھا کیا نماز کا وقت ہو گیا ؟ عرض کیا گیا حضور ! ہو گیا۔اس پر حضوڑ نے تیم فرمایا اور لیٹے لیٹے ہی نماز شروع کر دی۔اٹھنے کی طاقت نہیں تھی اسی حالت میں غشی طاری ہوگئی اور نماز پوری نہ کر سکے۔تھوڑی دیر بعد پھر حضور نے فرمایا کیا نماز کا وقت ہو گیا ؟ عرض کیا گیا حضرت! ہو گیا تو آپ نے پھر تیم فرمایا اور نماز پڑھی لیکن غشی طاری ہوگئی اور نماز پوری نہ کر سکے۔اسی حالت میں بار بار تیم کرتے ہوئے اور عبادت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود " علیہ الصلوۃ والسلام کی روح اپنے اللہ کے حضور حاضر ہوگئی۔( تاریخ احمدیت جلد ۳ صفحہ: ۵۵۳) یہ وہ ہمارے سامنے اسوہ ہیں، یہ وہ نمونے ہیں جن کی ہم نے پیروی کرنی ہے۔کتنے ہیں ہم میں جو اس خیال کے ساتھ مسجدوں کو آباد کرتے ہیں؟ کتنے ہیں جو یہ فکر نہیں کرتے کہ اپنے گھروں کو آباد رکھ کر ، خدا کے گھر کو ویران کرنا بہت ہی بڑا گناہ ہے۔سب محبت کے دعوے جھوٹے کرنے والی بات ہے۔ایسے انسان کی زبان کو زیب ہی نہیں دیتا کہ وہ یہ کہے کہ میں خدا سے پیار کرتا ہوں۔کون ہوسکتا ہے جو خدا سے سچی محبت رکھتا ہو ، پانچ وقت اذان کی آوازیں سنے اور پھر مسجد کو چھوڑ دے اور اپنے گھر میں بیٹھ کر رونقیں لگائے۔یہ احمدیوں کو زیب نہیں دیتا۔آپ میں سے جس تک بھی یہ بات پہنچتی ہے میں عرض کروں گا کہ جب واپس جائیں تو اپنے گھروں میں اس بات پر نگران ہو جائیں۔