خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 283
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 283 قیام نماز ۶۷۹۱ء پھر آپ کو نماز با جماعت کے متعلق اتنا اہتمام تھا اور آپ سمجھتے تھے کہ نماز قائم ہی نہیں ہوسکتی جب تک باجماعت ادا نہ ہو اور مساجد میں جا کر ادا نہ ہو۔ایک موقع پر عبداللہ ابن مکتوم جو اندھے تھے وہ حاضر ہوئے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں اندھا ہوں نظر نہیں ہے۔مدینہ کی سڑکوں پر گڑھے بھی ہیں یہاں جانور کتے وغیرہ بھی پڑ جاتے ہیں مجھے اجازت ہے کہ میں گھر پہ پڑھ لیا کروں۔آنحضرت ﷺ بہت شفیق تھے پہلا تاثر یہ ہوا کہ ہاں تمہیں اجازت ہے لیکن اصل شفقت روحانی تھی جسمانی نہیں تھی چنانچہ فورا آپ نے پوچھایہ تو بتاؤ کہ حَيَّ عَلَى الصَّلوۃ اور حَيَّ عَلَى الفلاح کی آواز سنتے ہو۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ !ہاں سنتا ہوں آپ نے کہا پھر اجازت نہیں ہے۔جب سنتے ہو تو جایا کرو اس حال میں بھی جایا کرو۔( صحیح مسلم کتب المساجد ومواقع الصلوۃ باب يجب اتيان المسجد على من سمع النداء ) کوئی کہہ سکتا ہے کہ دوسروں کو کہہ دیا، تکلیف اٹھا رہا ہے کوئی اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ آپ کا اپنا اسوہ میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔آخری بیماری تھی اتنی تکلیف میں تھے حضور کہ بار بار غشی کے دورے پڑ رہے تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور نے پوچھا کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ کیا لوگ انتظار کر رہے ہیں؟ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! نماز کا وقت ہوا ہے اور لوگ انتظار کر رہے ہیں۔فرمایا پانی لاؤ ، پانی سے غسل فرمایا اور بے ہوش ہو گئے۔پھر آنکھ کھلی پھر فرمایا لوگ انتظار کر رہے ہیں ؟ یا رسول اللہ! انتظار کر رہے ہیں۔پانی لاؤ پانی لایا گیا حضور نے غسل کیا اور پھر نا طاقتی کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے۔پھر آنکھ کھلی پھر فرمایا بتاؤ لوگ انتظار کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! انتظار کر رہے ہیں وقت ہے نماز کا۔آپ نے کہا پانی لاؤ پھر غسل فرمایا اور پھر اس ناطاقتی کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے چار مرتبہ ایسا کیا تب فرمایا کہ جاؤ ابو بکر کو کہہ دو کہ وہ نماز پڑھادے۔حضرت عائشہ نے عرض کیا یا رسول اللہ بڑے نرم دل ہیں کس طرح اس مقام پر کھڑے ہوں گے جس پر آپ کھڑا ہوا کرتے تھے روتے روتے نماز ان کی خراب ہوگی، نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔آپ نے فرمایا تم تو یوسف کی بہنیں ہو جس طرح میں کہتا ہوں کرو۔ابوبکر کو حکم دو کہ وہ نماز پڑھائے۔ایک اور روایت میں آتا ہے کہ جب حکم دے دیا تو پھر طبیعت کچھ بہتر ہوئی تو آپ نے کہا کہ آؤ مجھے مسجد کی طرف لے کے چلو۔دو آدمیوں کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہوا حضور اس طرح روانہ ہوئے کہ حضرت عائشہ فرماتی