خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 285
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 285 قیام نماز ۶۷۹۱ء مائیں بچوں پر نگران ہوں، باپ بیٹوں پر نگران ہوں اور بیویوں پر نگران ہوں، بیویاں بھی باجماعت پڑھ سکتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جب نماز کا یہ میدان ایسا خطر ناک حالت میں پہنچ چکا ہو کہ جب قیام نماز کی غیر معمولی ذمہ داری جماعت پر عاید ہو تو ایسے موقع پر عورتوں کو بھی یہ کہنا چاہئے کہ وہ با جماعت نماز پڑھیں۔قادیان میں مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک موقع پر نماز کی اہمیت کو قائم کرنے کے لئے مستورات کو یہ حکم دیا۔ہمارے گھر مجھے یاد ہے مہینوں مہینوں باجماعت نماز ادا ہوتی رہی۔کبھی میری والدہ کبھی کوئی اور اکثر کوئی دوسری عورت ہوتی تھی غالباً استانی میمونہ وہ نماز پڑھایا کرتی تھیں اور باقی سب مستورات اکٹھی ہو کر پیچھے پڑھا کرتی تھیں۔عجیب رونق لگی ہوتی تھی ہمیشہ باجماعت نماز ہو رہی ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا اپنا حال یہ تھا کہ ایک دفعہ مجھے یاد ہے بہت بیمار تھے مسجد میں نہیں جاسکتے تھے۔نقرس کی بہت تکلیف تھی تو ہم بچے کچھ حاضر تھے خدمت میں آپ نے فرمایا کہ میں نماز پڑھاتا ہوں تم میرے پیچھے کھڑے ہو جاؤ اور وہیں بیٹھے بیٹھے نماز باجماعت پڑھائی اور فرمایا کہ باجماعت نماز اس طرح بھی ہو سکتی ہے امام کھڑا نہ ہو سکتا ہوتو بیٹھ کر پڑھا سکتا ہے۔ہم نے جو حالات دیکھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تربیت یافتہ لوگوں کے ان کا نمونہ میں بتاتا ہوں۔نواب محمد عبد اللہ خان صاحب، مجھے یہ بات بڑی ہمیشہ ان کی پسند رہی اور ہمیشہ یاد رہتی ہے کہ بیمار ہو گئے دل کی تکلیف تھی ، کرسی پر بیٹھ کے چلتے تھے مسجد تک نہیں پہنچ سکتے تھے تو درخواست کر کے محلے والوں سے اپنے گھر میں مسجد بنالی۔پانچ وقت با قاعدہ پردہ کروا کر اپنے گھر میں وہیں نماز با جماعت کا اہتمام کیا کرتے تھے اور بچوں کو ساتھ شامل کیا کرتے تھے۔(اصحاب احمد جلد ۱۲ صفحہ: ۱۵۲) تو یہ وہ طریق ہے جس کے اوپر ہمیں قائم ہونا ہے اور قائم کرنا ہے۔اب میں آپ کے سامنے آنحضرت ﷺ کی کچھ کیفیت عرض کرتا ہوں عبادتوں کیکہ کیفیت کیا ہوتی تھی؟ قرآن کریم میں جو آیات ہیں عبادت کرنے والوں کے متعلق اور مختلف کہ کس طرح لوگ نماز قائم کرتے ہیں ان سب کا مرکزی اشارہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی طرف ہے یہ آپ یا درکھیں اور حضور ﷺ کی طرف اشارہ ہے اور آپ کے ماننے والوں ، آپ کے پیچھے چلنے والوں کی طرف اشارہ ہے اس سوسائٹی کے نقشے کھینچے ہوئے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: