خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 276
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 276 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء سے انکا ذکر ملتا ہے۔ایک ابتدائی سٹیج(Stage) جس میں سے ساری جماعت گزرتی ہے کوئی نہیں بچتا وہ یہ ہے: اِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوْا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغَامَرُوْنَ وَإِذَا انْقَلَبُوا إِلَى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوا فَكِهِيْنَ وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَؤُلَاءِ لَضَاتُونَ (المطففين : ۳۰ - ۳۳) کہ وہ لوگ جو جرم کیا کرتے تھے۔وہ میرے ان بندوں سے تمسخر کرتے تھے جو ایمان لے آئے وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ ه جب وہ ان کے پاس سے گزرتے تھے تو آنکھیں مارتے ہوئے گزرتے تھے کہ دیکھو یہ مرزائی کتا یہ کافر، یہ محمد، یہ دجال، پاگل ہو گیا ہے کس کو قبول کر لیا ہے وَ اِذَا انْقَلَبُوا اور ایسا مزہ لیتے تھے وہ اس چھیڑ چھاڑ میں کہ بھولتے نہیں تھے، سارا رستہ چسکا لیتے ہوئے جاتے تھے یہاں تک کہ إِذَا انْقَلَبُوا إِلَى أَهْلِهِمُ انْقَلَبُوا فَكِھیں کہ جب وہ اپنے گھروں میں پہنچتے تھے تو اسی تمسخر کی کیفیت کے ساتھ پہنچ کر گھر میں جا کر بیان کیا کرتے تھے۔بڑا لطف آیا آج ! اس طرح ایک احمدی بچہ تھا، اس طرح ہم نے اس کو چھیڑا ، اس طرح احمدی بڑا تھا، اس طرح احمدی عورت تھی ہم نے مرزائن کہہ کر اس کے دل کو دکھایا۔یہ تمسخر کیا، یہ مذاق کیا وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَؤُلَاءِ لَضَادُّونَ منہ بھر کر بڑی عالمانہ زبان میں کہتے ہیں جب وہ دیکھتے ہیں ان بندوں کو اِنَّ هَؤُلَاءِ لَضَاتُونَ یہی گمراہ ہیں یہی گمراہ ہیں۔تو یہ ایک عمومی ابتلاء ہے آگ کی تیاری کا جس میں سے ساری جماعت گزرتی ہے۔کوئی ایک بھی خدا کا مومن بندہ یہ کہہ کر کہ میں اپنے رب پر اور وقت کے امام پر ایمان لے آیا اس سزا سے بچ نہیں سکتا۔ایک احمدی بچہ بھی نہیں ہے جس نے اپنی زندگی میں کبھی اس قسم کے دکھ نہ اٹھائے ہوں۔پھر یہ سزا جو ہے کچھ آگے بڑھتی ہے۔بدن تک پہنچتی ہے۔تمسخر جو ہے وہ ایذا رسانی میں تبدیل ہونا شروع ہوتا ہے۔اس قسم کا ایک واقعہ بڑا پیارا واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ہمیں ملتا ہے۔سیالکوٹ جب آپ تشریف لے گئے تو مولوی برہان الدین صاحب جو