خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 277
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 277 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء آپ کے بڑے مشہور بزرگ صحابی تھے آپ کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔جس طرح حضور پر بعض دفعہ راکھ پھینکی جاتی تھی ، طرح طرح کے ایذاء دینے کے لئے۔حضور کے اس غلام پر بھی کھڑکی سے کسی عورت نے راکھ پھینکی ، گھر کا کوڑا کرکٹ اور راکھ۔حضور تو آگے نکل گئے پیچھے مولوی برہان الدین تھے ساری انکے سر پر پڑی۔سر اٹھا کر کہا۔” پاراے مائے پا۔پا اے مائے پا“ اے اماں یہ راکھ بہت پیاری ہے پھولوں سے بڑھ کر ہے مجھے ڈالتی چلی جا، ڈالتی چلی جا۔( تاریخ احمدیت جلد ۳ صفحه : ۶۲۴) یہ وہ جذبہ تھا جس کے ساتھ احمدیوں نے ان قربانیوں کو قبول کیا۔سیالکوٹ میں ہی جلسہ تھا۔جلسے کے بعد مولوی برہان الدین صاحب باقی لوگوں سے بچھڑ کر ذرا الگ ہوئے۔لوگوں نے پکڑ لیا ان کو اور یہ جو خواہش تھی ناں کہ خدا کی راہ میں مجھے اور اس قسم کی قربانیاں نصیب ہوں وہ اللہ تعالیٰ نے پوری کر دی ہیں۔پکڑ کر گو برگلی سے اٹھا کر انکے منہ میں گوبر ڈالنا شروع کیا۔اس کے جواب میں آپ نے جو کہا وہ یہ تھا او بر ہاناں! ایہ نعمتاں کتھوں! ( تاریخ احمدیت جلد ۳ صفحه: ۶۲۴) اللہ تیری شان جس طرح ابو ہریرہ نے کہا تھا ”بخ بخ ابو ھریرہ“ کیا شان ہے ابو ہریرہ تیری ! وہ شان تو کسریٰ کے رومال ملنے کے نتیجے میں انہوں نے دیکھی تھی۔یہ شان ایک گلی کے گوبر کے نتیجہ میں مسیح موعود کا غلام دیکھ رہا تھا۔کہاں تیرہ سوسال کا عرصہ گزر گیا، صحابہ آئے اور خدا کی راہ میں قربانیاں پیش کر کے چلے گئے۔نہ مسیح موعود آتے نہ یہ نعمتیں ہمیں نصیب ہوتیں کہ خدا کے رستے میں گوبر ہمارے منہ میں ڈالا جا رہا ہے۔یہ وہ ایک معمولی سی مثال ہے۔سینکڑوں ہزاروں ایسے تھے جو ان تکلیفوں میں سے گزر رہے تھے، مقاطعے ہوئے ان کے، گھروں میں قید کر دیا گیا۔چھوٹے بچوں کو عذاب دیا گیا۔آج جو آپ تکلیفیں دیکھ رہے ہیں کوئی نئی بات تو نہیں ہے۔صرف آج کا زمانہ تو ان کے لئے مخصوص نہیں ہے۔جس دن مسیح موعود کے غلاموں نے ساتھ ملکر یہ آواز دی تھی کہ ہاں ہم تیری راہ میں حاضر ہیں، جو کچھ تجھے حکم دیا گیا ہے ہمارے ساتھ کر، تو ہمیں صبر کرنے والوں میں سے پائے گا۔اس دن سے انکے صبر کا امتحان لیا جا رہا ہے۔۱۹۰۵ء میں بریلی کے ہمارے ایک بزرگ تھے۔انہوں نے اس زمانے میں ایک اشتہارشا ئع کیا۔مجھے کچھ عرصہ پہلے لائبریری میں دیکھنے کا موقع ملا۔کہتے ہیں کہ سخت تپش کے دن ہیں۔مئی، جون ، جولائی کا مہینہ، تین مہینے ہو گئے ہیں ، نہ پنکھا ہے لیکن ہم صحن میں اس لئے نہیں سو سکتے کہ پتھراؤ