خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 251
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 251 اسلام کا بطل جلیل ۴۷۹۱ شدید جوابی حملہ کرتے کہ دشمن کو ایک مرگی زدہ مریض کی طرح پچھاڑ کر پرے پھینکتا تھا۔مخالفین کی طرف سے آپ پر نا واجب سختی کا جو الزام لگایا گیا ہے وہ پیشتر ایسے ہی موقعوں سے تعلق رکھتا ہے۔آپ مزاجاً بڑے حلیم، بڑے رؤوف اور رحیم تھے، دکھ دینے والوں سے درگزر کرنے والے، خطا کاروں سے صرف نظر کرنے والے لیکن آنحضوری کے خلاف گستاخی کا جرم آپ سے معاف نہیں کیا جاتا تھا۔سب ستم گوارا تھے یہ ایک ستم گوارا نہ تھا، سب ظلم برداشت تھے یہ ایک ظلم برداشت نہیں تھا۔آپ کے صحابہ نے اس پہلو سے آپ کو جو پایا اور سمجھا اس کا اظہار اس دلچسپ واقعہ سے ہوتا ہے، ایک مرتبہ کسی بد گودشمن نے آپ کی یعنی مسیح موعود کی شان میں گستاخی کی تو اس وقت آپ کے ایک صحابی سے برداشت نہ ہو سکا اور جوابا اس نے بھی قدرے سختی کا برتاؤ کیا۔جب آپ کو اس کا علم ہوا تو اس جوابی سختی کوناپسند فرمایا اسے صبر اور برداشت کی تلقین فرمائی۔اس پر اس نے مودبانہ یہ عرض کی یا حضرت جب آپ کے پیر یعنی محمد رسول ال پر کوئی حملے کرتا ہے تو آپ سے تو برداشت نہیں ہوتا تو ہم کیسے برداشت کریں کہ آپ پر کوئی حملے کرے۔(سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے رضی اللہ عنہ صفحہ: ۲۹، ۳۰) بسا اوقات ایسا ہوا کہ بعض بد زبان عیسائی دشمنوں نے آنحضور ﷺ اور آپ کے اہل بیت کے کردار پر سخت نا پاک حملے کئے ایسے موقع پر آپ کی جوابی کاروائی حمیت اور حکمت عملی کی ایک حسین امتزاج کی حیثیت سے قیامت تک سنہرے حروف میں لکھے جانے کے لائق ہے۔اس سلسلے میں آپ کی ایک عبارت پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے آپ فرماتے ہیں: عیسائی مشنریوں نے ہمارے رسول اللہ کے خلاف بے شمار بہتان گھڑے ہیں اور اپنے اس دجل کے ذریعے ایک خلق کثیر کو گمراہ کر کے رکھ دیا ہے میرے دل کو کسی چیز نے کبھی اتنا دکھ نہیں پہنچایا جتنا کہ ان لوگوں کے اس ہنسی اور ٹھٹھہ نے پہنچایا ہے جو وہ ہمارے رسول پاک ﷺ کی شان میں کرتے رہتے ہیں ان کے دل آزار طعن و تشنیع نے جو حضرت خیر البشر کی ذات والا صفات کے خلاف کرتے ہیں میرے دل کو سخت زخمی کر رکھا ہے۔خدا کی قسم اگر میری ساری اولاد اور اولاد کی اولا د اور میرے سارے دوست اور میرے