خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 250 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 250

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت قومی شعار کے لئے غیرت 250 اسلام کا بطل جلیل ۴۷۹۱ ء میدان جنگ میں سب سے زیادہ قابل حرمت شئے ایک غیور سپہ سالار کے لئے قومی علم ہوتا ہے۔قومی علم کو سر بلند رکھنے کے لئے مسلمان افسران جیش نے حیرت انگیز فدائیت کے نمونے اپنے پیچھے چھوڑے ہیں، ایک صحابی کے متعلق روایت ہے کہ جب آپ کا وہ ہاتھ کٹ گیا جس میں آپ نے لشکر اسلام کا جھنڈا تھاما ہوا تھا تو گر نے سے پہلے آپ نے اسے دوسرے ہاتھ سے تھام لیا۔جب دوسرا ہا تھ بھی زخمی ہوا تو بھی اسے گرنے نہ دیا اور اس وقت تک اسے دانتوں میں دبا کر بلند رکھا جب تک آپ کے قائم مقام نے یہ امانت سنبھال نہ لی تب آپ نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔( شروع الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۳۲۰)۔قومی علم سے بہت بڑھ کر، بہت بڑھ کر صحابہ رضوان اللہ علیھم کو حضرت رسول کر ے کے لئے غیرت تھی۔آپ کے بدن کو دشمن کی زد سے بچانے کے لئے ایسی فدائیت کے ساتھ اپنے ہاتھ اور اپنے چہرے اور اپنی چھاتیاں تیروں اور شمشیروں کے سامنے پیش کرتے تھے کہ تاریخ عالم میں ایسی والہانہ قربانی کی کوئی مثال نہیں۔اسلام کے بطل جلیل احمد مکی و مدنی ﷺ کے غلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی سب سے بڑھ کر اپنے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی عزت و ناموس کے لئے غیرت تھی۔یہ آپ کے عظیم جہاد کا نمایاں اور روشن پہلو تھا کہ جہاں کسی بد بخت دشمن نے آنحضور کی ناموس اور عصمت اور حرمت پر کوئی ناپاک حملہ کیا آپ کا رد عمل اتنا شدید ہوا اور تعاقب اتنا سخت اور قوی کہ ایک زلزلہ سابر پا ہو جاتا تھا اور دشمن اسلام کو عبرت ناک سزا دیئے بغیر آپ کو دل کا چین اور آرام جان میسر نہ آتا تھا۔بسا اوقات جب معترض اسلامی تعلیم پر اعتراض کرتے کرتے بد بختی سے آنحضرتﷺ کی مقدس ذات اور مطہر کردار پر حملے شروع کر دیتا یا ازواج مطہرات کو طعن کا نشانہ بنانے کی شرارت کرتا تو حضور کا پر جلال رد عمل اور جوابی حملے کا کروفر دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔کوئی شیرنی اپنے بچوں کے لئے ایسانہ پھرتی ہوگی کسی غیرت مند بیٹے کو اپنی ماں کی حرمت کی ایسی حیا نہ ہوگی کسی غیور جو ان کو اپنے باپ کے بالوں کی سفیدی کا ایسا پاس نہ ہو گا جیسے مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے آقا محمد رسول اللﷺ کی عزت اور ناموس کی غیرت تھی۔یکدفعہ پلٹ کر ایسا