خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 238 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 238

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 238 اسلام کا بطل جلیل ۴۷۹۱ مسلمانوں کو ابھی تک وہ زمانہ نہیں بھولا جبکہ وہ سکھوں کی قوم کے ہاتھوں ایک دہکتے ہوئے تنور میں مبتلا تھے اور ان کی دستِ تعدی سے نہ صرف مسلمانوں کی دنیا ہی تباہ تھی بلکہ ان کے دین کی حالت اس سے بھی بدتر تھی دینی فرائض کا ادا کرنا تو درکنار بعض آذان کے کہنے پر جان سے مارے جاتے تھے۔“ اس حالت زار کے وقت انگریزی حکومت نے مسلمانوں کو سکھوں کے ظلم و استبداد سے نجات بخشی اور امن و امان کا دور دورہ ہوا لیکن افسوس کہ ان کے ساتھ عیسائیت کا پیغام مسلمانوں کی تباہی کا پیغام بن کر آیا اور ہندوستان کی مذہبی دنیا میں ایک تلاطم بر پا کر دیا۔خصوصاً اسلام پر عیسائیت کی طرف سے ایسے بھر پور حملے کئے گئے کہ ان کی یلغار کے چرچے ہونے لگے۔عیسائیت کو اس تیزی سے ہندوستان میں کامیابی حاصل ہونے لگی کہ فتح کے نشے میں بدمست ہو کر عالمی شہرت کے مالک عیسائی پادری یہ بلند و بانگ دعاوی کرنے لگے کہ : دنیائے عیسائیت کا عروج آج اس درجہ زندہ حقیقت کی صورت اختیار کر چکا ہے کہ اس درجہ عروج اس سے پہلے کبھی نصیب نہیں ہوا تھا۔ذرا ہماری ملکہ عالیہ ملکہ وکٹوریہ کو دیکھو جو ایک ایسی سلطنت کی سر براہ ہے جس پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا۔دیکھو! وہ ناصرہ کے مصلوب کی خانقاہ پر کمال درجہ تابعداری سے احتراما جھکتی ہے اور خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔۔۔۔۔دیکھو! جرمنی کے نوجوان قیصر کو جب وہ خود اپنے لوگوں کے لئے بطور پادری فرائض سرانجام دیتا ہے اور یسوع مسیح کے مذہب یعنی دین عیسائیت سے اپنی وفاداری کا اعتراف کرتا ہے۔مشرقی اقدار پر ماسکو کے شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ میں زار روس کو دیکھو کہ تاج پوشی کے وقت ابن آدم کے طشت میں رکھ کر اسے تاج پیش کیا جاتا ہے یا پھر ایک مغربی جمہوریت کے صدر کے بعد دوسرے صدر کو دیکھو ان میں سے ہر ایک عبادت کے نسبتا سادہ لیکن عمیق اسلوب میں ہمارے خداوند کے ساتھ اپنی وفاداری اور تابعداری کا اظہار کرتا چلا جاتا ہے۔“ ( بیروز لیکچر ز صفحه: ۱۹، ۲۰)