خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 237
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 237 اسلام کا بطل جلیل ۴۷۹۱ ء اسلام کو مٹا کر اس ملک کا عام مذہب ہندو دھرم کو بنانا چاہتا تھا۔اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد یہی تھا کہ مسلمانوں کو حوالہ شمشیر و آتش کر کے ہندوستان سے ان کا نام ونشان مٹادے۔“ ( منقول از اخبار الجمیعہ دہلی۔بحوالہ سوانح فضل عمر جلد اول صفحہ: ۱۵) ہندوؤں کے احیاء نو کی ایک تحریک آریہ سماج کے نام سے اٹھی جس کا اولین مقصد ہندومت کو اسلام پر اس طرح غالب کرنا تھا کہ ہندوستان میں بھولے سے بھی کوئی مسلمان نہ ملے۔اس کے متعلق ذکر کرتے ہوئے اخبار پر کاش لکھتا ہے: ”ہندوستان میں سوائے ہندو راج کے دوسرا راج قائم نہیں رہ سکتا۔ایک دن آئے گا کہ ہندوستان کے سب مسلمان شدھی کے ذریعہ آریہ سماجی ہوں جائیں گے۔یہ بھی ہندو بھائی ہیں آخر صرف ہندو ہی رہ جائیں گے یہ ہمارا آدرش ہے یہ ہماری آشا ہے۔سوامی جی مہاراج نے آریہ سماج کی بنیا داسی اصول کو لے کر ڈالی۔“ (پرکاش، لاہور ۳۴ را پریل ۱۹۲۵ء بحوالہ سوانح فضل عمر جلد اول صفحه: ۱۶) ادھر ہندوؤں کی یہ کیفیت تھی ادھر پنجاب کی سرزمین میں سکھ راج نے مسلمانوں پر آفت ڈھا رکھی تھی۔تلسی رام ایک ہندو مورخ اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ: مسلمانوں سے سکھوں کو بڑی دشمنی تھی اذان یعنی بانگ با آواز بلند نہیں ہونے دیتے تھے۔مسجدوں کو اپنے تحت میں لے کر ان میں گرنتھ پڑھنا شروع کرتے اور اس کا نام موت کڑا رکھتے تھے۔“ انسائیکلو پیڈیا آف سکھ لٹریچر میں لکھا ہے: سکھوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا جذبہ بے پناہ تھا۔مسلمان مردوں عورتوں اور بچوں کو بے دریغ قتل کیا گیا۔ان کے گاؤں بالکل 66 تباہ کر دیئے گئے ، عورتوں کی بے حرمتی کی گئی اور ہزاروں مسجد میں جلا دی گئیں۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: