خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 239
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 239 اسلام کا بطل جلیل ۴۷۹۱ ء مذہبی جنگ کے میدان میں یہ نقشہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میدان کارزار میں قدم رکھا اور اس شان اور قوت اور فنی مہارت اور بے مثل فراست کے ساتھ اہل اسلام کی کمان سنبھالی که گذشتہ تیرہ صدیوں میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔آپ کا جہاد فی سبیل اللہ بارگاہ الہی میں اس حد تک مقبول ہوا کہ الہاماً آپ کو جرى الله في حلل الانبياء( تذکرہ صفحہ: ۶۳) کا لقب عطا کیا گیا یعنی کہ فرمایا کیا کہ دیکھو کہ خدا کا پہلوان انبیاء کا لبادہ اوڑھے ہوئے میدانِ کارزار میں اترا ہے۔ایک عظیم سپہ سالار میں جو جو خوبیاں پائی جانی چاہئیں وہ آپ میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔بڑا دلچسپ اور طویل مضمون ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فنون حرب کو سمجھنے کے لئے گہرے تحقیقاتی مطالعہ کی ضرورت ہے۔صرف تعارف کے طور پر چند ایک امور پر روشنی ڈالتا ہوں۔جنگ مادی ہو یا روحانی، روحانی ہو یا نظریاتی بنیادی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ اچھی تیاری کی جائے اس کے دو حصے ہیں۔پہلا حصہ اچھے ہتھیاروں کی فراہمی اور نئے ہتھیاروں کی ایجاد سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا حصہ اپنی فوج کو عمدہ تربیت دینے سے تعلق رکھتا ہے جو فی ذاتہ ایک بڑا وسیع مضمون ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیونکہ ایک عظیم روحانی فوج کے سردار تھے جسے مادی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ روحانی ہتھیاروں سے دشمنانِ اسلام پر غلبہ پانا تھا۔لہذا اس جہاد کے لئے جس قسم کی تیاری کی ضرورت تھی وہ آپ نے حد امکان تک فرمائی۔اس تیاری کے سلسلے میں آپ نے راہنمائی کے لئے سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تا قیامت باقی رہنے والی تعلیم اور ارشادات کو اپنا راہنما بنایا اور قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور روشنی پانے کے لئے اس کثرت سے اور ایسے گریہ وزاری سے دعائیں کیں کہ اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت اور تائید اس کوشش میں ہر گھڑی آپ کے ساتھ رہتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ آپ کو اس مختصر زندگی میں تنِ تنہا اسلام کی ایسی شاندار اور عظیم الشان خدمات کی توفیق عطا ہوئی کہ غیر بھی پکار اٹھے کہ حضور ﷺ کے دور اول کے بعد تیرہ صدیوں میں کسی کو ایسی توفیق نہیں ملی۔اس سلسلے میں آپ کی پہلی تصنیف براہین احمدیہ گویا اہل اسلام کا ایک جدید اسلحہ خانہ ثابت ہوئی اور ایسے نئے مؤثر اور نا قابل تردید دلائل سے آراستہ تھی جن کے استعمال نے دشمن کے کیمپ میں ایک کھلبلی مچادی۔اپنوں کو نئے حوصلے ، نئی جراتیں اور نئے اعتماد عطا کئے۔یہ وہی کتاب ہے جس کی اشاعت پر مولوی