خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 236 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 236

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 236 اسلام کا بطل جلیل ۴۷۹۱ ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مشن کوئی معمولی مشن نہ تھا۔آپ قرآن کریم کی اس عظیم الشان پیشگوئی کو پورا کرنے کی غرض سے بھیجے گئے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے دین کو دوسرے تمام ادیان پر غالب کر دیا جائے۔آپ ایسے وقت میں اس عظیم الشان مشن کو پورا کرنے کے لئے تشریف لائے جب کہ بظاہر یہ دین سخت کسمپرسی کی حالت میں تھا اور اس دین کے فدائی اور حامی شعراء اس کی موجودہ حالتِ زار پر نوحے لکھ رہے تھے۔ایک طرف ان کے سامنے آنحضوں اور صلى الله خلفاء راشدین کے زمانے کا وہ اسلام تھا جو غار حرا سے نور کے چشمے کی صورت پھوٹا تھا اور دیکھتے دیکھتے ریگزار عرب کو اس نے جل تھل کر دیا کہ وہ موج در موج ایک سیل رواں کی صورت خاکنائے عرب کی سرحدوں کو پھلانگتا ہوا۔قیصر و کسریٰ کے تخت و تاج اور ان کی بوسیدہ اور کرم خوردہ تہذیب کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے گیا۔مسلمان شعراء اور مفکرین کے سامنے ایک وہ روشن روشن منظر تھا اور ایک یہ بھیانک تصویر کہ صدیوں کے مرے ہوئے بت پھر زندہ ہو گئے اور آب و آتش کے پرستاروں اور پتھروں، سانپوں اور بچھوؤں کے پجاریوں کو یہ تاب اور یہ مجال ہوئی کہ بڑھ بڑھ کر للکارتے ہوئے اسلام پر حملہ آور ہونے لگے۔جراتیں یہاں تک بڑھیں اور حوصلے ایسے بلند ہوئے کہ سیوا جی نے راجا جے سنگھ کے نام اپنے خط میں لکھا: ”میری تلوار مسلمانوں کے خون کی پیاسی ہے۔افسوس صد ہزار افسوس کہ یہ تلوار مجھے ایک اور ضرورت کے لئے مجھے میان سے نکالنی پڑی۔اسے مسلمانوں کے سروں پر بجلی بن کر گرنا چاہیے تھا جن کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ انہیں انصاف کرنا آتا ہے۔میری بادلوں کی طرح گرجنے والی فوجیں مسلمانوں پر تلواروں کا وہ خونی مینہ برسائیں گی کہ دکن کے ایک سرے سے لے کر دوسرے تک سارے مسلمان اس سیلاب خون میں بہہ جائیں گے اور ایک مسلمان کا نشان بھی باقی نہیں رہے گا۔“ ( منقول از اخبار الجمیعہ دہلی۔بحوالہ سوانح فضل عمر جلد اول صفحہ : ۱۵) اس خط کو نقل کرتے ہوئے اے۔کے۔سور یہ لکھتے ہیں: سیوا جی کی یہ الفاظ اس کے اصلی رنگ میں ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ