خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 235
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 235 اسلام کا بطل جلیل ۴۷۹۱ ء اسلام کا بطل جلیل بر موقع جلسہ سالانه ۱۹۷۴ء) تشہد وتعوذ کے بعد آپ نے درج ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ أيتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِيْنٍ ﴿ وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ) ( الجمع : ٣-٤) هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (القف: ١٠) یہ دو آیات جو میں نے احباب کے سامنے تلاوت کی ہیں آنحضور ﷺ کی احادیث کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں آیات کا تعلق ایک عظیم روحانی مصلح سے ہے جو ایسے زمانے میں ظاہر ہوگا جب کہ دین اسلام کو دو پہلوؤں سے اس کی شدید ضرورت ہوگی۔ایک اندرونی خرابیوں کو دور کرنے کے لئے چنانچہ یہ اپنی روحانی قوت سے ایسے سامان پیدا کرے گا کہ ایمان اگر ثریا پر بھی جاچکا ہوگا تو اسے وہاں سے کھینچ لائے گا اور دوسرے اسلام کے غلبۂ نو کے لئے مسلمانوں کے پراگندہ لشکر کو ازسر نو منظم کرنے کی خاطر یہ ظاہر ہوگا۔( صحیح بخاری کتاب التفسیر باب قولہ و آخرین منھم۔۔۔تفسیر طبری زیر آیت و آخرین منھم۔۔۔میرے مضمون کا تعلق اس دوسرے حصہ سے ہے۔