خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 228
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 228 اسلام کی نشاۃ ثانیہ خلیفۃ الرسول سے وابستہ ہے ۳۷۹۱ء آدم کے بعد نوع آئے اور نوح کے بعد عاد کی طرف ھوڈ کو بھیجا گیا اور بگڑی ہوئی خمود کی طرف صالح " مبعوث ہوئے ، قوم آزر کو ابراہیم نے توحید کا درس دیا اور ابراہیم کے بعد نسلاً بعد نسل روحانی خلافت ان کی ذریت کو عطا ہوتی رہی۔جب سدوم اور گمارہ کی بستیوں میں گمراہی پھیلی تو اللہ تعالیٰ نے کھلے کھلے انذار کے ساتھ لوظ کو بھیجا اور مدین کے بددیانت تاجروں کو شعیب نے ماپ تول کے آداب سکھائے۔غرضیکہ ایک کے بعد دوسرا نبی آیا اور اپنے فرائض کو پورا کر کے چلا گیا۔ان میں سے صاحب شریعت بھی تھے اور وہ بھی تھے جو پہلی شریعتوں کے تابع تھے اور یہ ایک لمبا سلسلہ آدم سے حضرت محمد مصطفی میل تک پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔لیکن اس طویل مذہبی تاریخ میں قرآن کریم ایک بھی ایسے واقعہ کی خبر نہیں دیتا کہ خدا کی طرف سے بھیجے ہوؤں کے سوا کبھی کسی نے بگڑی ہوئی قوموں کی اصلاح کی ہو۔پھر آقائے امت حضرت محمد مصطفی ﷺ نے بھی اصلاح امت کے لئے ایک آسمانی مصلح ہی کی خبر دی تھی جس نے خدا تعالیٰ کی طرف سے اذن ہدایت پا کرامت کی اصلاح کرنا تھی۔لیکن جہاں تک مسلمانوں کے اس گروہ کا تعلق ہے جو آسمانی مصلحین کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا، قادیان سے بلند ہونے والی اس آواز نے ان کو بتایا کہ مہدی اور مسیح کا آنا تو برحق ہے لیکن منشاء نبوئی نہ سمجھنے کے باعث جس صورت میں تم ان کے آنے کے منتظر ہو وہ سراسر عقل کے منافی ، تاریخ مذاہب کے خلاف اور سنت اللہ اور سنت الرسول سے ٹکر انے والی ہے۔مذہبی قوموں کی تقدیر کبھی ایسے شعبدوں سے نہیں بدلی۔کیسے ممکن ہے کہ مسلمان تو کتاب اللہ کی طرف پیٹھ پھیر کر ہر قسم کی بد عملی اور فسق و فجور میں مبتلا ہو جائے ، وحدت ملی پارہ پارہ ہو چکی ہو، ان کا رسول زبان حال سے بارگاہ رب العزت سے شکوہ کر رہا ہو کہ يُرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ( الفرقان :۱۳) کہ اے میرے رب! میری قوم نے میرے قرآن کو مہجور کی طرح چھوڑ دیا ہے۔تب ایسی صورت حال میں یکا یک سنت انبیاء کے خلاف کوئی آسمانی وجود آسمان سے اترے یا زمین سے ظاہر ہو اور اس قوم کو طویل اور مسلسل اور عظیم اور دردناک قربانیوں کی راہ دکھائے بغیر تن تنہا دنیا کی عظیم سلطنتوں کے تاج و تخت کو پاؤں تلے روندتا ہوا گزر جائے یا وہ اکیلا اٹھے اور واشنگٹن اور ماسکو اور لندن اور پیکنگ کی اینٹ سے اینٹ بجادے اور ان کے خزانوں کی چابیاں مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھما کر ان سے کہے کہ اٹھو اور اب ان سلطنتوں پر حکومت کرو۔