خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 227 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 227

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 227 اسلام کی نشاۃ ثانیہ خلیلۃ الرسول سے وابستہ ہے ۳۷۹۱ء جہنم برسانے والی مشینیں امام مہدی کی تلوار کی چھنا چھن اور پے در پے ضربوں سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گی اور اچانک یہ امام آخری الزمان اعلان کرے گا کہ اے مفلس و بے کس اور اے بے زوروز رمسلمانوں! اے دین و دنیا سے عاری اور اسلام سے دور فسق و فجور کی راہوں میں بھٹکنے والو! جو آج تک مغرب کی ترقی یافتہ قوموں کے رحم و کرم اور ان سے ملنے والی امداد پر زندہ تھے، اٹھو اور انکی تباہ شدہ سلطنتوں پر قبضہ کر لو۔میرے دست و بازو نے ان کو تمہارے لئے مغلوب و مفتوح اور خائب وخاسر کر دیا ہے۔اسی طرح ان کو انتظار تھی ایک ایسے مسیح کی جو دو ہزار برس قبل طبعی موت وفات پا کر اپنے رب کے حضور حاضر ہو چکے تھے۔ان کو انتظار تھی کہ وہ آسمان سے ظاہر ہوں اور ان کے لئے وہ کرشمے دکھا ئیں جن کرشموں کا تصور بھی ایک معقول انسان کے لئے مضحکہ خیز ہے۔مسلمانوں کے ادبار اور تنزل کے انتہا کے وقت ظاہر ہونے والے آسمانی مصلحین کا یہ وہ تصور تھا جسے مسلمان علماء ، صوفیاء اور مشائخ دل و دماغ میں سمائے اور سینوں سے چپکائے ہوئے بیٹھے تھے کہ اچانک قادیان کی ایک گمنام بستی سے ایک پر شوکت آسمانی آواز بلند ہوئی اور اس نے مسلمانوں کو ایک نیا مکتب فکر عطا کیا۔اس کا لب لباب یہ تھا کہ جب سے دنیا بنی ہے اور جب سے پیغمبری اور رسالت کا سلسلہ شروع ہوا ہے آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بگڑے ہوئے مذاہب یا مذاہب کے بگڑے ہوئے متبعین کی اصلاح کرنے میں علماء یا صوفی یا مشائخ یار بی یا راہب یا فقیر یاسن سادھو کی کوششیں کامیاب ہوئی ہوں۔قرآن کریم جو تاریخ مذاہب میں ہمیں بتاتا ہے اس میں ایک بھی استثناء نہیں بلکہ اس کے برعکس بار بار اس امر کی تنبیہ ملتی ہے کہ جب بھی مذہبی قوموں پر اد بار آیا اس کے بڑے لوگ اور مہنت اور ربی اور راہب اور مشائخ خود ان خرابیوں کے ذمہ دار تھے۔ان سے اصلاح کی توقع تو در کنار یہ تو اصلاح کی ہر اس کوشش کے اولین دشمن نکلے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہ راست فرمائی گئی۔پس ہر وہ شخص نادان یا شیخی خوردہ ہے جو اس طفلانہ ذہن میں مبتلا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمت اور قوت اور ہدایت اور اذن پائے بغیر کوئی مولوی یا پیر فقیر محض اپنے علم اور تدبر اور کوششوں کے ذریعہ کسی بھی بیمار امت کی روحانی اصلاح میں کامیاب ہو سکتا ہے۔پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا اور آئندہ کبھی ایسا نہیں ہوگا۔