خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 229 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 229

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 229 اسلام کی نشاۃ ثانیہ خلیفۃ الرسول سے وابستہ ہے ۳۷۹۱ء کا ئنات کا سب سے بڑا معجزہ تو محمد عربی ﷺ نے دکھایا تھا اور وہ یہ تھا کہ دنیا کی ایک ادنی اور حقیر اور ذلیل اور پسماندہ اور جاہل قوم کو قعر مذلت سے اٹھا کر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کی حیران نظر کے سامنے اوج ثریا پر جا بٹھایا تھا۔مگر اس بلندی سے پہلے انہیں بلندی کردار بخشی گئی تھی ، دنیا کی بادشاہتوں سے قبل انہیں آسمان روحانیت کی بادشاہت عطا ہوئی تھی ، بندے پر حکومت سے پہلے انہیں خدا کی بندگی کے آداب سکھائے گئے تھے۔یہ درست ہے کہ قیصر و کسریٰ کی شرق تا غرب پھیلی ہوئی سلطنتیں ان کے گھوڑوں کے سموں تلے روندی گئیں۔اور یہ بجا ہے کہ ان کے ذخار خزانوں کی چابیاں ان فاقہ مستوں کے ہاتھوں میں تھائی گئیں۔یہ درست ہے اور یہ بھی درست ہے کہ ابو ہریرہ نے کسری کے جواہرات سے مزین ریشمی رومال پر تھوکا اور اپنے آقا محمد عربی ﷺ پر درود بھیجے لیکن یہ درست نہیں، بخدا یہ درست نہیں کہ یہ معجزہ ان کی بے مثل قربانیوں اور محنتوں اور مشقتوں اور ایثار کے بغیر ہی رونما ہو گیا ہو۔جس راہ پر انہوں نے قدم مارا وہ بلا شبہ آسمان کی رفعتوں کی جانب پھر اس سے بلند ہوتی ہوئی ایک درخشندہ راہ تھی۔مگر خوب جان لو کہ وہ خون آشام وادیوں اور سنگلاخ چٹانوں اور بے آب و گیاہ منزلوں سے ہو کر گزری تھی۔یہ وہ راہ تھی جو مکہ سے نکلی اور طائف کا منہ دیکھا اور شعب ابی طالب کی فاقہ مست تنہائی میں سالہا سال تک قرار کیا۔یہ وہ راہ تھی کہ جو لوٹے ہوئے شہر بدر مظلوموں کا قافلہ لئے ہوئے مدینہ کی طرف روانہ ہوئی اور پھر بدر کے میدان سے گزرتی ہوئی یہ احد اور حنین کی قربان گاہوں تک جا پہنچی اور وہاں جان کے نذرانے پیش کئے۔اس راہ پر خندقیں واقع تھیں، اس راہ میں جھلتے ہوئے صحرا پڑتے تھے، اس راہ پر وہ عبادتگاہیں تھیں جو راتوں کی گریہ وزاری اور مناجات کے شور سے جاگ اٹھتی تھیں۔اس راہ پر وہ مسجد نبوی واقع تھی جس کے صحن میں فاقہ کش اصحاب الصفہ نے درویشانہ ڈیرے ڈال رکھے تھے۔یہ وہ راہ تھی جس پر ظالم ڈاکے ڈالتے تھے اور سفاک قاتل اندھے نہتے اور بے کس حفاظ قرآن کو تہ تیغ کیا کرتے تھے۔یہ وہ راہ تھی جس پر دن رات قرآن کی تلاوت کرنے والے نیزوں کی انیوں میں پروئے جاتے تھے۔جہاں عزتیں لوٹی جاتی تھیں اور خون ناحق کی ارزانی تھی۔اس راہ پر چلنے کی مد عربی اے نے دعوت دی تھی۔یہ وہ قافلہ تھا جس کے آپ قافلہ سالار تھے۔یہ وہ معجزہ تھا جو آپ نے دکھایا۔پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس راہ سے ہٹ کر بھی کوئی