خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 225 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 225

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 225 اسلام کی نشاۃ ثانیہ خلیفۃ الرسول سے وابستہ ہے ۳۷۹۱ء مدد کرے اثر بے کسی و تنہائی ہے آج لشکر غم سے مقابلہ دل کا زیادہ مت دل مضطر کو بے قرار کرو ز میں نہ لوٹ دے اک دن زلزلہ دل کا اقتراب الساعۃ صفحه ۳۳، ۲۲۴ ) مشہور سجادہ نشین خواجہ حسن نظامی نے ممالک اسلامیہ کی سیاحت کے بعد لکھا: ممالک اسلامیہ کے سفر میں جتنے مشائخ اور علماء سے ملاقات ہوئی میں نے انکو امام مہدی کا بڑی بے تابی سے منتظر پایا۔شیخ سنوسی کے ایک خلیفہ سے ملاقات ہوئی انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اسی ۱۳۳۰ھ میں امام محدوح ظاہر ہو جائیں گے۔“ اهل حدیث ۲۶ / جنوری ۱۹۱۲ء بحوالہ موعود اقوام عالم از مولا نا عبدالرحمن مبشر صفحه : ۳۹) شیعوں کے ایک مشہور عالم نے اپنے امام مہدی کو مخاطب کرتے ہوئے یہ فریاد کی : شعار بیا اے امام ہدایت که بگذشت غم از انتظار حد زروئے ہما یوں بیفکن نقاب عیاں ساز رخسار چون آفتاب بروں آئے زمنزل اختفاء نمایاں کن آثار مهر آثار مهر و وفا (مستطاب روضتہ الاحباب از سید جمال الدین عطاء اللہ بن سید غیاث الدین فضل اللہ۔بحوالہ الصراط السوی فی احوال المهدی از مولوی سید محمد سبطین ) یعنی اے امام صداقت شعار ! آ کہ انتظار کا غم حد سے بڑھ گیا ہے، اپنے مبارک چہرے سے پردہ اٹھا اور سورج جیسا چہرہ ظاہر فرما۔پوشیدہ جگہ سے باہر آ اور محبت اور وفا کے آثار ظاہر فرما۔ایک اور مسلمان شاعران الفاظ میں اپنے رب کے حضور مناجات کرتے ہیں: