خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 224
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 224 اسلام کی نشاۃ ثانیہ خلیفۃ الرسول سے وابستہ ہے ۳۷۹۱ء صرف خدا ہی کو ہے پس وہ خلافت جو خدا نے قائم فرمائی اور بندوں کی نالائقی کے ہاتھوں اس دنیا سے اٹھ گئی ،ممکن نہیں تھا، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس خلافت کو دنیا کے وہ بندے جو ان مقامات سے بہت زیادہ ادنیٰ حالتوں تک پہنچ چکے ہیں جن مقامات پر وہ لوگ کھڑے تھے جن سے خلافت روٹھی تھی ، وہ اپنے ہاتھوں سے دوبارہ اس خلافت محمدیہ کو قائم کر دیں۔صرف اور صرف ایک راہ تھی چنانچہ طبعاً نگاہیں آسمان کی طرف اٹھنے لگیں اور جوں جوں وہ صدی ڈھلتی گئی جس کے وقت کے آخر میں متفرق حدیثوں کی رو سے امام مہدی کے ظہور کی خبر دی گئی تھی۔کروڑ ہا منتظرین مسیح و مہدی کی بے چینی و بے قراری میں اضافہ ہوتا رہا اور بے کلی حد سے بڑھ گئی۔رات بہت طویل ہو چکی تھی اور سفیدی صبح طلوع ہوتی نظر نہ آتی تھی۔اس وقت عالم اسلام میں چیخ و پکار اور آہ و بکا کا ایک شور بلند ہوا اور سب نے بے تابی سے منت وزاری سے گریہ کر کے اپنے رب کے حضور دعائیں کیں ، مناجات کیں کہ اے خدا! بھیج اب اس امام کو جس کی اس امت کو خوشخبری دی گئی تھی۔مشہور اہلحدیث رہنما نواب صدیق حسن خان نے لکھا، کچھ حدیثیں بیان کر کے کہتے ہیں : میں کہتا ہوں کہ اس حساب سے ظہور مہدی کا شروع تیرھویں صدی پر ہونا چاہئے تھا۔مگر یہ صدی پوری گزرگئی ، مہدی نہ آئے ، اب چودھویں صدی ہمارے سر پر آئی ہے،۔۔۔۔شاید اللہ تعالیٰ اپنا فضل و عدل اور رحم وکرم فرمائے ، چار چھ برس کے اندر مہدی ظاہر ہو جاویں۔۔۔۔۔اب یہ صدی چودہویں شروع ہے، ہر طرف سے آواز فتنہ فساد نے کانوں کو بھر دیا ہے دیکھئے 66 یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے۔“ پھر کہتے ہیں: اقتراب الساعۃ صفحہ ۲۱ مصنفہ ابوالخیرسید نور الحسن خان) بلا سے کوئی ادا انکی بدنما ہو جائے کسی طرح سے تو مٹ جائے ولولہ دل کا کہاں کہاں میں بچاؤں کہاں کہاں دیکھوں ہے خارزار محبت میں آبلہ دل کا