خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 223 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 223

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 223 اسلام کی نشاۃ ثانیہ خلیفۃ الرسول سے وابستہ ہے ۳۷۹۱ء ہو نکونام جو قبروں کی تجارت کر کے کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے؟ (جواب شکوه، با نگ در از کلیات اقبال ص ۱۸۱، ۱۸۲، ۱۸۴) اسلام کے تنزل کے مضمون پر نثر میں بھی اور نظم میں بھی بہت کچھ لکھا گیا۔لیکن اس مضمون میں آخری بات وہی ہے جو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنے ایک شعر میں بیان فرما دی ہے۔آپ فرماتے ہیں: کربلا ایست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم ( در تمین فارسی صفحه: ۲۴۸) اسلام کے دکھوں کا حال مجھ سے پوچھو تمہیں تو ایک کر بلا کی خبر ہے مگر میں تو ہر لحہ ایک نئی کر بلاد یکھتا ہوں اور میرے گریبان میں سو حسینوں کا دکھ گر یہ کناں ہے۔تنزل کا وہ سایہ جو خلافت راشدہ کے آخری ایام میں گہرا ہونا شروع ہوا بالآخر ایک مکمل رات کی تاریکی میں بدل گیا۔اور تیرہویں صدی کے آغاز تک تو یہ تہہ بہ تہ ظلمتوں اور سخت در سخت اندھیروں میں بدل چکا تھا اور بڑی شدت سے حساس مسلمانوں کے دل میں یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ کیا نجات کی کوئی راہ باقی ہے؟ کیا کبھی صبح صادق طلوع ہوگی بھی کہ نہیں ؟ اب امت مسلمہ کے لئے سوال اچھے یا برے حال میں زندہ رہنے کا نہیں تھا بلکہ زندگی اور موت کا سوال بن چکا تھا۔اب سوال یہ تھا کہ To be or not to be کیا ہم باقی رہیں گے بھی یا نہیں ؟ سوال اب یہ تھا کہ روٹھی ہوئی خلافت راشدہ کو پھر سے کیسے منایا جائے؟ وہ کون سے تدبیر کی جائے کہ یہ آسمان سے پھر زمین پر اتر آئے۔ظاہر ہے کہ جس خلافت کو تیرہ سو سال کی زمینی کوششوں کے نتیجے میں قائم نہ کیا جاسکا اس انتہائی ادبار اور حد سے گزرے ہوئے تفرقہ کے وقت مسلمانوں کا ازخودا کٹھے ہوکر ایک خلیفہ راشد کا انتخاب کرنا ناممکن تھا اور بفرض محال وہ ایسا کر بھی لیتے تو اس بات کی کیا سند تھی کہ اس انتخاب کے نتیجے میں خلیفہ بننے والا واقعی رسول اللہ کا حقیقی جانشین بھی ہوگا؟ آنحضرﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اور آپ کا خلیفہ بنانے کا حق بھی صرف اور