خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 205 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 205

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 205 حقیقت نماز ۲۷۹۱ء تو پھر سمجھ آتی ہے کہ بار بار قرآن کریم نماز کھڑی کروہ نماز کھڑی کرو، نماز کھڑی کرو کی اس شدت سے تاکید کیوں فرماتا ہے؟ بات ہی دارصل کچھ ایسی ہے کہ ہم میں سے اکثر کی نمازیں بے جان جسموں کی طرح گری پڑی رہتی ہیں اور اگر اس قدر تا کید نماز کھڑی کرنے کی نہ ہو تو معاملہ ہاتھ ہی سے جاتا رہے۔آج امت مسلمہ کی سب سے بڑی بد قسمتی یہی ہے کہ بہتوں نے تو نماز کی کوشش ہی ترک کر دی اور زندگی کے اس سر چشمہ سے تعلق کو توڑ کر مردہ روحوں میں جا ملے لیکن کچھ وہ جو نماز پڑھتے ہیں ان میں سے اکثر نماز کو قائم رکھنے سے بری طرح عاجز رہتے ہیں اور ان کی نمازیں ایک مردہ جسم کی طرح ہوتی ہیں جس میں روح نہ ہو۔ایک خالی برتن جو نہ غذا رکھتا ہے نہ پانی ، ایک ایسا چھلکا ہیں جس کے اندر سے رس اڑ چکا اور گودا سوکھ چکا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: وہ نماز جس کا ذکر قرآن میں ہے اور وہ معراج ہے۔بھلاان نمازیوں سے کوئی پوچھے تو سہی کہ ان کو سورۃ فاتحہ کے معنی بھی آتے ہیں۔پچاس پچاس برس کے نمازی ملیں گے مگر نماز کا مطلب اور حقیقت پوچھو تو اکثر بے خبر ہوں گے حالانکہ تمام دنیوی علوم ان علوم کے سامنے بیچ ہیں۔بایں دنیوی علوم کے واسطے تو جان توڑ محنت اور کوشش کی جاتی ہے اور اس طرف سے ایسی بے التفاتی کہ اسے جنتر منتر کی طرح پڑھ جاتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد ۵ صفحه: ۶۶۰) پس نماز اس وقت فائدہ دیتی ہے جب وہ قائم اور زندہ ہو ورنہ اس کی حالت اس گلے سٹرے پھل سے مشابہ ہوگی جو فرحت اور تازگی اور صحت بخشنے کی بجائے بسا اوقات انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔ایسی مہلک نمازوں کے متعلق قرآن کریم ان الفاظ میں تنبیہ کرتا ہے: فَوَيْلٌ لِلْمُصَلَّيْنَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَآءُونَ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ (الماعون : ۵-۸) یعنی لعنت ہو ایسے نمازیوں پر لعنت ہو ایسے نمازیوں پر جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔ان