خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 204
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 204 حقیقت نماز ۲۷۹۱ء سے نہ بیٹھیں جب تک مساجد کی رونق قائم نہ ہو جائے۔وہ عورتیں جن پر مساجد میں پہنچنا فرض نہیں وہ اپنے خاوندوں اور بچوں اور بھائیوں کو اوقات نماز میں گھروں میں نہ بیٹھنے دیں اور خود چین سے نہ بیٹھیں جب تک کہ نمازوں کے اوقات میں ان کے اپنے گھر خالی اور خدا کے گھر آباد نہ ہوں۔اس زمانے کا یہ ایک بڑا جہاد ہے۔پس احمدی خواتین اس وقت کو بھی یاد کریں جب تلوار کے جہاد میں ایک موقع پر مسلمان مردوں کے پاؤں اکھڑ گئے تھے اور وہ اپنے خیموں کی طرف دوڑے چلے آرہے تھے۔جانتی ہواے احمدی ماؤں اور بہنو! کہ ان مسلمان جیالیوں نے اس وقت کیا کیا جو خیموں میں زخمیوں کی مرہم پٹی کے لئے کمر بستہ کھڑی تھیں؟ انہوں نے انہیں خوش آمدید نہیں کہا، انہوں نے انکو سینے سے نہیں لگایا، ان کے قدم نہیں تھامے، ان کو آرام گاہوں کی طرف نہیں بلایا بلکہ بپھری ہوئی شیر نیوں کی طرح ان پر حملہ آور ہوئیں اور اگر کوئی دوسرا ہتھیار ہاتھ نہیں آیا تو خیموں کے ڈنڈے اکھاڑ لئے اور ان پر جھپٹ پڑیں اور کہا کہ جاؤ اے خدا اور رسول کے دشمنوں کو پیٹھ دکھانے والو! جاؤ ہم تمہاری صورت تک سے بیزار ہیں۔جاؤ ہم نے تمہیں خدا کی راہ میں سر کٹوانے اور چھاتیوں پر زخم کھانے کے لئے بھیجا تھا ، جاؤ یا تو راہ خدا میں شہید ہو جاؤ یا فتح کے بعد ہمیں منہ دکھانے کی جرات کرنا۔اے احمدی خواتین ! مسجد میں تو کوئی تلوار نہیں چلتی ، سر نہیں اتارے جاتے ، بدن کے اعضاء ایک ایک کر کے جسم سے جدا نہیں کئے جاتے ، نیزے چھاتیاں نہیں چھید تے ، تیر جسم چھلنی نہیں کرتے پھر کیا احمدی ماؤں اور بہنو اور بیٹیو! تم اس حد تک عاجز اور دین خدا کے لئے حمیت سے خالی ہو کہ اس پر امن اور طمانیت بخش جہاد کبیر کی خاطر بھی اپنے مردوں پر اپنے گھروں کے دروازے بند نہیں کرتیں۔انہیں تو خدا کی ان محبت سراؤں کی طرف بلایا جا رہا ہے جہاں امن ہی امن ہے، جہاں امن ہی امن ہے۔نماز یعنی قیام صلوۃ کے ایک معنی اس کی کیفیت کے لحاظ سے ہیں۔نماز خواہ انفرادی ہو یا با جماعت اس کی کما حقہ ادائیگی کوئی آسان کام نہیں اور ہمارا روزمرہ کا تجربہ بتاتا ہے کہ بڑی کوشش سے توجہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف لگانے کی کوشش کی جاتی ہے مگر بار بار مختلف خیالات اور افکار اس میں خلل ڈال دیتے ہیں۔گو یہ نمازیں اس کمزور بیمار کی طرح ہیں جسے مضبوط سہارا دے کر کھڑا کیا جائے ورنہ نڈھال ہو کر گر گر جائے اور خود اٹھنے کی سکت نہ ہو۔اس پہلو سے جب غور کریں