خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 206
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 206 حقیقت نماز ۲۷۹۱ء لوگوں پر لعنت ہو جو دکھاوا کرتے ہیں اور سخت دل اتنے ہیں کہ اللہ کے ضرورت مند بندوں کی ادنیٰ ادنی خدمت سے بھی عاری اور محروم رہتے ہیں۔پس افسوس کہ وہ چند لوگ جو نماز کے معنی بھی جانتے ہیں وہ بھی توجہ اور خلوص سے کما حقہ اُسے قائم کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور جو کوشش کرتے ہیں ان کی نمازیں بھی کئی قسم کی بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہیں اور وہ خوب جانتے ہیں کہ کوشش کی ابتداء اور اعلیٰ درجے کی نماز کے درمیان کتنی مشکل اور صبر آزما منزلیں ہیں۔دنیا کے تفکرات، کاموں کے جھمیلے، سود و زیاں کے جھگڑے، خلوص نیت سے کوشش اور مجاہدہ کرنے والوں کو بھی آگھیرتے ہیں پھر ہوا و ہوس کے بندوں کا تو ذکر ہی کیا ؟ ان سے تو بقول اقبال یہ ماجرا گزرتا ہے کہ: جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں پس أَقِيمُوا الصَّلوةَ کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ نماز کو درست حالت میں نہایت توجہ سے سنوار کر پڑھو اور ایک دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اپنی نماز کو اس طرح کھڑا کرو جس طرح پھل دار درخت کو نصب کیا جاتا ہے۔سب لوگ جانتے ہیں کہ ایک ہی دن میں وہ پھل نہیں دینے لگ جاتا اور بڑی محنت کی اور سالہا سال کی توجہ کی ضرورت پڑتی ہے۔حضور علیہ السلام اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: نماز اور روزہ کے برکات اور ثمرات ملتے ہیں اور اسی دنیا میں ملتے ہیں لیکن نماز روزہ اور دوسری عبادات کو اس مقام اور جگہ تک پہنچانا چاہئے جہاں وہ برکات دیتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد ۴ صفحہ: ۶۶۱) حضور علیہ السلام نے جماعت کو بارہا اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اس مشکل کا حل بھی سورہ فاتحہ میں نماز ہی میں موجود ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحہ: ۵-۷) کی دعا اسی غرض سے سکھائی گئی ہے۔اس کا ایک مفہوم یہ ہے کہ اے آقا! ہم تیری اور صرف تیری