خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 171 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 171

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 171 اسلام اور سوشلزم ۹۶۹۱ء ہیں، امیروں کی دولت امیروں کی طرف منتقل ہو رہی ہے اور ایک اوپر کی سوسائٹی آپس میں ہی اپنی دولت کو چکر دے رہی ہے۔اسلامی نظام اوپر سے نیچے کی طرف اور نیچے سے اوپر کی طرف ایک مسلسل حرکت دے رہا ہے اور اگر انسانی اہلیت اس کے سرمائے کے ساتھ شامل نہ ہو تو سرمایہ بے کار ہو جاتا ہے۔اس کا نتیجہ لازماً یہ نکلتا ہے کہ اگر سرمائے کو اہل آدمی استعمال کر رہا ہے اسلامی قوانین کے مطابق تو وہ تو یہ ترقی کرے گا اگر نا اہل کر رہا ہے تو وہ لازما گرے گا اور اس کے نتیجے میں سرمایہ دار غریب بھی ہوسکتا ہے اور امیر بھی ہوسکتا ہے۔اس سلسلے میں تفصیلات تعلیم کی بیان کرنے کا تو وقت نہیں ہے میں اتنا عرض کروں گا کہ زکوۃ کا نظام اور حق سے بڑھ کر ادا کرنے کا نظام اور بنیادی ضروریات کو قائم کرنے کا نظام اور اس کے علاوہ ایتائِ ذِي الْقُرْبی کا نظام جو احسان سے بھی آگے کا قدم ہے یہ تمام انسانی تعلیم کا خا کہ ہیں۔اس کے برعکس اشتراکیت میں اونچائی نیچائی اور بلندی پستی سب ختم ہو جاتی ہے اور انسان کی ترقی کی دوڑ وہیں کھڑی ہو جاتی ہے جس مقام سے زندگی نے آغا ز کیا تھا۔لیکن ان باتوں سے ایک بہت زیادہ اہم بات میں آخر پر پیش کرنے کے بعد آپ سے اجازت چاہوں گا۔وہ بات یہ ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اسلامی نظام کا مقابلہ اشتراکیت سے ہونے والا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ دنیا میں یہ فیصلہ کیا جائے کہ خدا مالک ہے یا بندہ مالک ہے؟ وقت آگیا ہے کہ یہ فیصلہ کیا جائے کہ رب کون ہے اور اللہ کون ہے اور ملک کون ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا قُل اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ الهِ النَّاسِ ( الناس : ۴۲) میں پناہ مانگتا ہوں اپنے رب اللہ کی جو رب الناس بھی ہے یعنی ربوبیت کا نظام بھی اسی طرح چلے گا۔مَلِكِ النَّاس بھی ہے یعنی سیاسی نظام بھی اسی کا ہی چلے گا اله الناس بھی ہے یعنی عبادت کا نظام بھی اسی کا چلے گا، اس فتنے سے جو ان تینوں کے خلاف ہے۔پہلے اسلام کی فکر مذاہب سے ہوتی تھی اب دہریت کے ساتھ یہ پہلا موقع ہے کہ عظیم الشان اسلام کی ٹکر ہونے والی ہے۔جس طرح اسلام جہاد کی تعلیم دیتا ہے اس طرح اشتراکیت بھی دہریت کے حق میں اور خدا کے خلاف جہاد کی تعلیم دیتی ہے اور کھلم کھلا لین ( Vladimir Lenin) اور مارکس (Karl Marx) نے یہ لکھا کہ ہم خدا کے تصور کو اس دنیا سے مٹا کر رہیں گے کیونکہ اشتراکیت کے تصور کے ساتھ یہ مطابقت نہیں کھاتا۔