خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 170

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 170 اسلام اور سوشلزم ۹۶۹۱ء بن سکتا۔دنیا کے ہر قانون میں جہاں کسی چیز کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے راستے سے ہٹے قدرتاً ہمیں عدل قائم ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔اگلا قدم یہ ہے کہ وہ احسان کرے اور اپنے حق کو خود چھوڑےاپنے بھائی کی خاطر۔یہ وہ تعلیم ہے جو اعلیٰ انسانی اقدار انسان میں پیدا کرنے والی تعلیم ہے، یہ وہ مزاج ہے جو اسلام کا خصوصی مزاج ہے اور نہ وہ اشتراکیت میں ملتا ہے اور نہ وہ کیپٹل ازم(Capitalism) یعنی سرمایہ داری میں ملتا ہے، سرمایہ داری کا مزاج اگر آپ غور کریں تو چھینا جھپٹی ہے۔ایسے قوانین ہیں سرمایہ داری کے جن کے نتیجے میں یہ کیفیت تِلْكَ الأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ پیدا ہوہی نہیں سکتی۔ایسے قوانین جہاں سرمایہ سرمائے کو کھینچتا ہے، جہاں سودی نظام کے نتیجے میں انسان کے لئے ممکن ہے کہ اپنی نااہلی کے باوجود اپنے پیسے کو بڑھا تا چلا جائے۔چوٹی اونچی ہوتی چلی جاتی ہے اور پستی نیچے ہوتی چلی جاتی ہے اور یہ جو فرق ہے یہ لازماً اشتراکیت پہ جا کر منتج ہو جاتا ہے کیونکہ دنیا کا یہ بھی قانون ہے کہ جب چوٹیاں اتنی اونچی ہو جائیں کہ ان کی بنیادیں تنگ رہ جائیں تو لازماً وہ عمارتیں منہدم ہوں گی۔مارکس (Karl Marx) نے اس حقیقت کو پہچانا اور اسی کے نتیجے میں اس نے یہ پیشگوئی کی کہ دنیا کا رخ کیپٹل ازم (Capitalism) سے کمیونز (Communism) کی طرف ہے اور اس رخ کو کوئی موڑ نہیں سکتا۔اس کی نظر میں اسلام نہیں تھا۔جو اشترا کی قانون ہے وہ دراصل رد عمل ہے۔حقیقت میں وہ بچہ ہے کیپٹل ازم کا۔جہاں ملکی قوانین سرمائے کو اکٹھا کرتے چلے جائیں اور سرمائے کو نکل کر جہاں سرمایہ کم ہورہا ہو اس کی طرف واپس جانے کا راستہ نہ رہے تو لازماً وہ صورت پیدا ہوگی جو مارکس (Karl Marx) نے کہی تھی اس لئے اس صورت کو روکنے کے لئے اس نے بھی کہا کہ ہم ایسا منظر پیش کریں گے کھلا میدان ہو جائے کوئی اونچی نیچی نہ رہے اونچی چیز کہاں گرے گی پھر ؟ پستی ہمیشہ اونچائی کو نیچا کرتی ہے اس لئے گرنا اور چڑھنا اس کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔اسلام کی تعلیم کی یہ خصوصیت ہے کہ اسلام نے سرمائے کے اس طرح اکٹھا ہونے کے تمام راستے بند کر دیئے ہیں کہ پھر وہ واپس نہ ہوسکیں۔معاشرے میں بھی اس کی یہی تعلیم ہے کہ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمُ (الحشر: ۸) کہ جب تم اپنے معاشرے میں سلوک کرو ایک دوسرے سے معاملے کرو تو اس رنگ میں معاملے نہ کرنا کہ امیر امیروں کو تحفے بھیج رہے