خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 172 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 172

تقاریر جلسه سالا نه قبل از خلافت 172 اسلام اور سوشلزم ۹۶۹۱ء بے خداؤں کی انجمن ایک روس میں قائم کی گئی اور اس نے جو ذرائع اختیار کئے ان میں اس تمدن کو مٹانے پر بھی زور دیا گیا تھا جو تمدن اسلام معاشی تمدن اس دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے۔مسلمان عورتوں کے پردے اتروا دئیے گئے زبردستی، ان میں بد خلقیاں پیدا کی گئیں، اینجلز Friedrich) (Engels نے جو لکھا تھا کہ ہم تو اس بات کے بھی قائل ہیں، تمدن میں اس حد تک اشترا کی ہیں کہ بہن بھائی کی اور ماں بیٹے کی آپس کی شادیاں بھی جائز ہیں ہمارے نزدیک اور کوئی اخلاقی قدر ہمارے نزدیک صحیح نہیں، یہ سارے واہمے اور جہالت کی پیداوار ہیں۔چنانچہ وہ منعکس حرکت یعنی انسانیت سے حیوانیت کی طرف لے جانے کی حرکت ان کی تمدنی تعلیم میں بھی جاری ہے اسی طرح۔یہ وہ تمام باتیں انسانی اخلاق کو خراب کرنے والی انہوں نے کیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلامی تعلیم تہذیب روس سے عملاً بالکل مٹ چکی ہے۔نتیجہ یہ نکلا کہ اس تعلیم کے بعد بڑے فخر سے ان کی شاعروں نے گیت گائے اور ان گیتوں میں کہا کہ تم کہا کرتے تھے کہ قرآن کی تعلیم دائمی ہے اور تم کہا کرتے تھے کہ پری چہرہ عورتیں مستورات اپنے چہرے کے نقاب نہیں انہیں گی جو انہوں نے الٹ دیئے اور یہ گیت سارے روس میں گائے جانے لگے۔ایک وقتی فتح روس اشتراکیت کو اسلام پر بعض ممالک میں ہو چکی ہے ابھی اور ابھی باقی ٹکر باقی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نتیجہ بالآخر فتح اسلام کی اور محمد عربی کی ہی ہوگی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی وجہ بیان فرمائی سورۃ محمد (ﷺ ) میں اللہ تعالیٰ اس کا ) ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ذلِكَ بِأَنَّ اللهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوْا وَ أَنَّ الْكَفِرِينَ لَا مَوْلى لَهُمْ (محمد : ۱۲) یہ فتح اس لئے ہوگی کہ اسلام کی بنا اس بات پر ہے کہ اس کا ایک مولیٰ ہے اس کا ایک آقا ہے جو اس کے مفادات کی حفاظت کرے گا اور جن لوگوں کا کوئی آقا نہیں ، جن لوگوں کا کوئی مولی نہیں ان کے مقابل پر موٹی والوں کو لا ز ما فتح نصیب ہوگی اور اب یہ وقت آ گیا ہے کہ اس بات کا فیصلہ کیا جائے کہ سرداری کس کی ہے؟ حقیقت ہے کہ آج مسلمان ممالک میں بھی آنحضرتی سرداری کا تاج چھین کر ماؤزے تنگ (Mao Tse-Tung)اور لینن (Vladimir Lenin)