خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 118
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 118 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟۷۶۹۱ء دجال دجال کے بارے میں بھی مسلمانوں میں عجیب و غریب قصے رائج ہو چکے تھے اور وہی غلطی دہرائی گئی تھی کہ کلام کی حکمت سے آنکھیں بند کر کے ظاہر کو پکڑ لیا گیا تھا۔اس ظاہر بینی کے نتیجہ میں مسلمان بالعموم ایک ایسے کانے دجال کا انتظار کرنے لگے جو ایک ایسے عظیم القامت گدھے پر سوار ہوگا جس کے دونوں کانوں کے درمیان ستر گز کا فاصلہ ہوگا اور دنیا کو تباہ و برباد کرنے کے لئے آخری زمانہ میں خروج کرے گا۔احمدیت نے آکر ان سب غلطیوں کی اصلاح کی اور ان عارفانہ معموں کو سلجھایا جو قبل ازیں سینکڑوں سال سے کسی کے سلجھائے نہ سمجھے تھے۔چنانچہ مقدس بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ علیہ السلام دجال کی یوں تشریح فرماتے ہیں: " قرآن شریف اس شخص کو جس کا نام حدیثوں میں دجال ہے شیطان قرار دیتا ہے جیسا کہ وہ شیطان کی طرف سے حکایت کر کے فرماتا ہے: (الاعراف : ۱۵۔۱۶) یعنی شیطان نے جناب الہی میں عرض کی کہ میں اس وقت تک ہلاک نہ کیا جاؤں۔جب تک کہ وہ مردے جن کے دل مر گئے ہیں دوبارہ زندہ ہوں۔خدا نے کہا کہ میں نے تجھے اس وقت تک مہلت دی۔سو وہ دجال جس کا حدیثوں میں ذکر ہے وہ شیطان ہی ہے جو آخر زمانہ میں قتل کیا جائے گا۔جیسا کہ دانیال نے بھی یہی لکھا ہے اور بعض حدیثیں بھی یہی کہتی ہیں اور چونکہ مظہر اتم شیطان کا نصرانیت ہے اس لئے سورۃ فاتحہ میں دجال کا تو کہیں ذکر نہیں مگر نصاریٰ کے شر سے خدا تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا حکم ہے۔اگر دجال کوئی الگ مفسد ہوتا تو قرآن شریف میں بجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ یہ فرماتا وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحہ : ۷) یہ فرمانا چاہئے تھا کہ ولا الدجال۔اور آیت (الاعراف:۵۱) سے مراد جسمانی بعث نہیں کیونکہ khutbatiela yom۔tif not found۔شیطان صرف اس وقت تک زندہ ہے جب تک بنی آدم زندہ ہیں۔ہاں شیطان