خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 116
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 116 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟۷۶۹۱ء محققین اہل اسلام ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ ملائک اپنے شخصی وجود کے ساتھ انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر زمین پر اترتے ہیں اور یہ خیال ببداہت باطل بھی ہے کیونکہ اگر یہی ضرور ہوتا کہ ملائک اپنی اپنی خدمات کی بجا آوری کے لئے اپنے اصل وجود کے ساتھ زمین پر اترا کرتے تو پھر اُن سے کوئی کام انجام پذیر ہونا بغایت درجہ محال تھا۔مثلا فرشتہ ملک الموت جو ایک سیکنڈ میں ہزار ہا ایسے لوگوں کی جانیں نکالتا ہے جو مختلف بلا دوامصار میں ایک دوسرے سے ہزاروں کوسوں کے فاصلہ پر رہتے ہیں اگر ہر ایک کے لئے اس بات کا محتاج ہو کر اول پیروں سے چل کر اس کے ملک اور شہر اور گھر میں جاوے اور پھر اتنی مشقت کے بعد جان نکالنے کا اس کو موقع ملے تو ایک سیکنڈ کیا اتنی بڑی کارگزاری کے لئے تو کئی مہینے کی مہلت بھی کافی نہیں ہو سکتی۔کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص انسانوں کی طرح حرکت کر کے ایک طرفۃ العین کے یا اس کے کم عرصہ میں تمام جہان گھوم کر چلا آوے۔ہرگز نہیں۔بلکہ فرشتے اپنے اصلی مقامات سے جوان کے لئے خدایتعالی کی طرف سے مقرر ہیں ، ایک ذرہ کے برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔جیسا کہ خدایتعالی ان کی طرف سے قرآن شریف میں فرماتا ہے (الصافات: ۱۶۵-۱۶۶) پس اصل بات یہ ہے کہ جس طرح آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اُس کی گرمی اور روشنی زمین پر پھیل کر اپنے خواص کے موافق زمین کی ہر ایک چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے اسی طرح روحانیات سماویہ خواہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ کہیں یا دسا تیر اور وید کی اصطلاحات کے موافق ارواح کواکب سے ان کو نامزد کریں یا نہایت سید ھے اور موحدانہ طریق سے ملائک اللہ کا لقب ان کو دیں۔درحقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے مقام میں مستعفر