خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 115
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 115 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟۷۶۹۱ء اور احادیث سے استنباط کرتے ہوئے ملائکہ کے صحیح اسلامی تصور کو ایسے بصیرت افروز رنگ میں پیش فرمایا کہ انہیں سن کر ایک معاند کو بھی مجبوراً اسلام کی حقانیت کا قائل ہونا پڑتا ہے۔پ نے فرمایا کہ اگر چہ تمثیل کے طور پر بعض اوقات انسانوں کو ملائکہ مختلف صورتوں میں دکھائے جاتے ہیں جیسے حضرت مسیح کو روح القدس ایک کبوتر کی شکل میں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک عظیم الشان پر شوکت انسانی وجود کے طور پر دکھایا گیا جو افق تا افق پھیلا ہوا تھا لیکن در حقیقت وہ جسمانی شکلوں کی قید سے آزاد ہیں اور وہ عظیم الشان وجود ہیں جو عظیم روحانی قوتوں کے طور پر خدا تعالیٰ کے حضور ایسے ماوراء الور کئی مقامات پر فائز ہیں جہاں سے وہ کبھی نہیں ہلتے اور ان کے ایک جگہ سے دوسری جگہ اڑنے پھرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ان کی مثال ان کے مخصوص فرائض کے دائرے میں جن پر وہ مامور ہیں ، ایک سورج کی سی ہے جو اپنی جگہ سے ہٹے بغیر اپنے دور رس تاثرات کے ذریعہ ان گنت کام اس کا ئنات میں سرانجام دے رہا ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ سورج یہ کام غیر شعوری طور پر ادا کرتا ہے اور ملائکہ صاحب شعور ہستیاں ہیں جو عظیم الشان کارخانہ قدرت میں علیحدہ علیحدہ نظاموں کو خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق چلانے پر مقرر ہیں۔چنانچہ ملک الموت اس روحانی وجود کا نام ہے۔جو موت کا نظام چلانے پر فائز ہے اور اس کے ماتحت بے شمار کارندے اس کام کو سرانجام دینے کے لئے موجود ہیں۔قرآن کریم میں پروں کے الفاظ جو ان کے متعلق استعمال ہوئے ہیں۔محض استعارہ کی زبان ہے جیسے انسانوں کے متعلق بھی قرآن کریم استعارہ پروں کے الفاظ استعمال فرماتا ہے۔چنانچہ والدین کے حق میں اولا د کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: (بنی اسرئیل: ۲۵) یعنی ان کے لئے نرمی یعنی رحمت کا پر جھکاؤ۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی مختلف کتابوں میں اس مسئلے کو ایسی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ اس کا کوئی بھی پہلو تشنہ نہیں رہتا۔نمونے کے طور پر ہم حضور کا ایک ارشاد درج کرتے ہیں۔اس سے واضح ہو جائے گا کہ ملا ئکتہ اللہ کا جو تصور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا کو دیا ہے دراصل وہی درست ہے اور اس کو اپنانے سے کسی بھی قسم کا کوئی اعتراض قرآن کریم پر وارد نہیں ہوسکتا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: