خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 99
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 99 نبی کرے کی قوت قدسیہ ۶۶۹ ء روحانیت کے بلند و بالا مقامات پر فائز ہوئے عرب کے غیر متمدن وحشی ہی تو تھے جو حضور ﷺ کی بعثت سے قبل ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرے پڑے ہوئے تھے۔روحانی اور اخلاقی پستی کی انتہا تک پہنچے ہوئے تھے، کفر و شرک کے گہواروں میں پلنے والے یہ لوگ جو فسق و فجور کی گودیوں میں کھیلے اور جہالت اور بربریت کے ہاتھوں میں جوان ہوئے تھے محمد عربی ﷺ کی ایک مز کی نگاہ سے بدل گئے۔آپ کی دعاؤں کا فیض رحمت کا پانی بن کر ان پر برسا یہاں تک کہ ان کے سارے گند دھوئے گئے ،سب تاریکیاں ان سے دور ہوئیں اور عصیان کے داغ دار لبادے انہوں نے اتار کر پھینکے پھر آسمانی نوران کے دلوں پر نازل ہوا اور سینے اس نور سے بھر گئے یہاں تک کہ وہ ان کی پیشانیوں سے پھوٹنے لگا۔میرا آقا اس دنیا سے رخصت نہ ہوا جب تک ان میں سے ہر وہ طالب نور جو صدق وصفا کے ساتھ اس کے قدموں میں حاضر ہوا ایک بقعہ نور نہ بن گیا۔تب اس نے افق اعلیٰ سے اپنے گردو بیش اور زیریں آسمان پر نگاہ ڈالی تو اسے یہ اپنے ستاروں کی طرح روشن صحابہ سے مزین پایا۔تب اس نے تاریکی میں بسنے والوں کو یہ زندگی بخش پیغام دیا اَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ ( مشکوۃ المصابیح کتاب المناقب باب مناقب الصحابه ) کہ دیکھو! میرے غلام اب آسمان ہدایت کے روشن ستارے بن چکے ہیں۔پس جو چاہے جس کی چاہے پیروی کرے اس کے لئے راستہ بھٹکنے کا کوئی خوف نہیں رہا۔یہی تزکیہ نفس کا وہ حیرت انگیز مجزہ ہے جس کا ذکر کرتے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گز را کہ لاکھوں مردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الٹمی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں ایک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچادیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں جو اس امی بے کس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں اَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَالِهِ بِعَدَدِ هَمِّهِ وَغَمِّهِ وِ