خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 98
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 98 88 نبی کریم ﷺ کی قوت قدسیہ ۶۶۹ ء أَلَا إِنَّ اَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (یونس: ۶۳) سادہ بے قیمت کپڑوں میں ملبوس خاک بسر یہ لوگ اپنے خدا کو ایسے پیارے ہو چکے تھے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا الا رُبَّ اَشْعَتْ اَغْبَرَ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَابَرَّه (سنن ترندی کتاب المناقب باب مناقب البراء بن مالک) خبر دار میرے احباب کے ظاہر پر قیاس میں نہ بیٹھنا۔ان میں کچھ ایسے بھی پراگندہ خاک حال اولیاء ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کوئی بات کر دیں تو خدا ان کی بات پوری کر دے گا۔حضرت عمرؓ کے متعلق ان کے بیٹے حضرت ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ میں نے کبھی حضرت عمر کے منہ سے یہ نہیں سنا کہ میں گمان کرتا ہوں کہ ایسا ہو گا مگر اللہ تعالیٰ ویسے ہی کر دکھاتا تھا جیسا حضرت عمرؓ کہا کرتے تھے کہ ایسا ہو گا۔صحابہ کرام کے متعلق ولایت کی ایک جھلک حضرت انس کی اس روایت سے بھی ملتی ہے ایک مرتبہ دو شخص آنحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رات دیر تک آپ کی پاک صحبت میں بیٹھے رہے۔جب وہ گھر کے لئے روانہ ہوئے تو رات گھپ اندھیری تھی لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت سے دونوں کی لاٹھیوں میں سے ایک لاٹھی روشن ہوگئی اور جب ان دونوں کا راستہ الگ الگ ہوا تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی اور ہر ایک اپنی لاٹھی کی روشنی میں اپنے گھر تک پہنچ گیا۔بخاری کی اس مستند روایت کو پڑھ کر ذہن خود بخود اس ید بیضا کی طرف منتقل ہو جاتا ہے جو حضرت موسی کو اپنے رب کی طرف سے عطا ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ کی شان کہ مثیل موسیٰ کے غلاموں کو بھی اس نے ایک روشن نشان عطا فرمایا۔کیوں نہ ہو یہ وہی لوگ تھے جن کے بارہ میں خدا تعالیٰ نے بشارت دی تھی۔نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ (الحريم :) بلاشبہ اخروی زندگی میں سب مومنوں کا نور ان کے آگے دوڑتے ہوا ان کی رہنمائی کرے گا لیکن غلامان مﷺ نے تو اس دنیا میں ہی تمثیلاً اس وعدے کو پورا ہوتے دیکھ لیا۔حضور ﷺ کی بعثت سے قبل یہ لوگ کون اور کیا تھے؟ اگر یہ سوچیں تو دل ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ایسی حیرت انگیز تبدیلی اور ایسا عظیم الشان تغیر کہ جیسے کوئی رات کو کہے کہ دن ہو جا اور واقعی وہ دن ہو جائے۔اس بے مثل مزکی کے فیض سے سرتا پا پاک ہو جانے والے یہ لوگ جو